پاکستان علاقائی روابط کو بڑھانے اور سماجی اقتصادی ترقی کے لیے شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے پرعزم ہے.نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کثیرالجہتی کیلئے عالمی عزم کی تجدید اور بین الاقوامی مالیاتی اور گورننس کے نظام میں فوری اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی روابط کو بڑھانے اور سماجی اقتصادی ترقی کے لیے شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام چھٹے مارگلہ ڈائیلاگ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیرالجہتی فورمز پر اپنے حالیہ خطابات میں نے بارہا خبردار کیا کہ انسانیت کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے جو عالمی امن، خوشحالی اور سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ کثیرالجہتی اور بین الاقوامی تعاون کی بنیادیں خاص طور پر جن کی نمائندگی اقوام متحدہ کرتی ہے تناؤ کا شکار ہیں کیونکہ شکوک و شبہات اور جاری تنازعات ان پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کثیر الجہتی ادارے کمزور ہورہے ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سیاسی تقسیم کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے جبکہ بہت سے معاملات میں اس کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا کوئی بامعنی طریقہ کار نہیں ہے۔ فلسطین اور جموں و کشمیر کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ سلامتی کونسل عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ انہوں نے عالمی عدم مساوات اور قرضوں کے بحران کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی جو اب 100 سے زائد ممالک کو متاثر کررہی ہیں جس سے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک عالمی اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، اس کے باوجود پاکستان سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ دنیا کا سب سے نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کا ذکر کیا جس میں خود ارادیت، طاقت کا عدم استعمال اور تنازعات کے پرامن حل شامل ہیں۔ انہوں نے اس سال کے وسط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی صدارت کا حوالہ دیا اور قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری کو اجاگر کیا۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی صدارت میں اجلاس موثر کثیرالجہتی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے لیے پاکستان کے عزم کے ثبوت پے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان کے اقدام کا بھی ذکر کیا جو دنیا کا دوسرا بڑا کثیر جہتی ادارہ ہے۔

نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نیاس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ چھٹے مارگلہ ڈائیلاگ نے ان میں سے بہت سے اہم مسائل کو زیر بحث لایا اور پاکستان کی تزویراتی جغرافیائی پوزیشن اور اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع پاکستان وسیع معدنی دولت، انسانی سرمائے اور رابطے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاقائی روابط کو بڑھانے اور سماجی اقتصادی ترقی کے لیے شراکت داری کو مضبوط کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تعاون اور مشترکہ خوشحالی پر مرکوز جیو اکنامک وژن پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ہم مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تمام شراکت داروں اور اداروں کے ساتھ مشغول ہونے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ مارگلہ ڈائیلاگ میں ہونے والی بات چیت سب کے لیے زیادہ مستحکم، مساوی اور خوشحال مستقبل کی جانب تعاون کے نئے راستے طے کرنے میں مدد کرے گی۔