اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے امن، استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے مذاکرات، سفارتکاری اور کثیرالجہتی کے لئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں یعنی خود مختار مساوات، تنازعات کے پرامن حل، عدم مداخلت اور اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات پر مبنی ہے، علاقائی روابط، تجارتی سہولت اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کے ذریعے معیشتیں مشترکہ خوشحالی حاصل کرسکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے علاقائی تعاون، تنازعات کی روک تھام اور مساوی ترقی کے لئے پاکستان کی مسلسل وکالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ استحکام اور ترقی کے لیے بات چیت ہمیشہ سے ہمارا ترجیحی ذریعہ رہا ہے۔
انہوں نے دنیا بھر سے آئے ہوئے اراکین پارلیمنٹ، مندوبین اور شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی اس مشترکہ یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ اقوام کے درمیان تعاون امن اور ترقی کا سب سے یقینی راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کے بانی چیئرمین سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی کے وژن کے مطابق سینیٹ آف پاکستان کے تحت منعقد ہونے والی کانفرنس کثیرالجہتی کے ذریعے امن، سلامتی اور ترقی کو آگے بڑھانے کےلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں میں ایک اور سنگ میل ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سفر کی تعریف ہمیشہ ریزیلینس، مکالمے اور شراکت داری سے ہوتی ہے، بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس نے ان اصولوں کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جو علاقائی استحکام کو مضبوط کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آج سفارت کاری وزارتوں اور روایتی مشنوں سے آگے بڑھی ہے، عوامی بیداری اور پارلیمانی مصروفیت سے تقویت ملتی ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری عوامی نمائندوں کے نقطہ نظر کو بین الاقوامی گفتگو میں لا کر روایتی سفارت کاری کی تکمیل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تعاملات عالمی تعاون کو تقویت دیتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ سفارت کاری دنیا بھر کے شہریوں کی امنگوں اور مفادات کی عکاسی کرتی ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ علاقائی روابط، تجارتی سہولت اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کے ذریعے معیشتیں مشترکہ خوشحالی حاصل کرسکتی ہیں۔
جاری عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا تبدیلی کے ایک ایسے دور کا مشاہدہ کر رہی ہے جس میں کثیرالجہتی اداروں پر اعتماد میں کمی، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دشمنیوں، موسمیاتی بحرانوں، دہشت گردی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں اس طرح کے فورمز غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ کثیر جہتی کو نہ صرف محفوظ کیا جانا چاہیے بلکہ کھلے پن، شمولیت اور عوامی نمائندوں کی فعال شرکت کے ذریعے اسے زندہ کیا جانا چاہیے۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال کا تھیم ”امن، سلامتی اور ترقی“ ایک سادہ لیکن طاقتور سچائی پر زور دیتا ہے کہ امن ترقی کو قابل بناتا ہے، ترقی امن کو برقرار رکھتی ہے اور سلامتی ترقی کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات زور دیا کہ اداروں کو جوابدہ اور جامع ہونا چاہئے تاکہ امن اور ترقی کے ثمرات تمام لوگوں تک پہنچیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وانا اور اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی جن میں 15 شہادتیں ہوئیں،
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح طور پر ہر قسم کی دہشت گردی کو مسترد کیا ہے، یہ بزدلانہ کارروائیاں اس لعنت کو ختم کرنے کے ہمارے قومی عزم کو کبھی متزلزل نہیں کریں گی۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بات چیت، افہام و تفہیم اور شراکت داری ہی امن اور سلامتی کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ نائب وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جولائی 2025 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران پاکستان نے کثیرالجہتی کے ذریعے بین الاقوامی امن کو فروغ دینے پر ایک کھلی بحث کرائی جس کے نتیجے میں پرامن تنازعات کے حل کے لیے میکانزم کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے زیر اہتمام ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجربہ منفرد طور پر اسے گلوبل سائوتھ اور گلوبل نارتھ کے درمیان اور خطوں سمیت تہذیبوں کے درمیان ایک پل کے طور پر رکھتا ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تعاون کو مسابقت کی جگہ لینی چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ منصفانہ شراکت داری نہ کہ درجہ بندی مستقبل کے بین الاقوامی نظام کو متعین کرے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پل بنانے والے، خطوں کو متحد کرنے، ترقی پذیر دنیا کی آواز کو بلند کرنے اور انصاف اور بات چیت کے ذریعے امن کو فروغ دینے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے کےلئے تیار ہے۔



