اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث بدھ کومسلسل دوسرے روز بھی جاری رہنے کے بعد مکمل ہوگئی،حکومت اوراتحادی جماعتوں کے اراکین نے آئینی ترامیم کو پارلیمان کا مینڈیٹ اور وقت کی ضرورت قرار دیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی اراکین نے ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ جلدبازی میں آئینی ترامیم سے گریز کرناچاہئے۔بدھ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم پربحث میں حصہ لیتے ہوئے پی پی پی کی ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے 27ویں آئینی ترمیم پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ترمیمی بل کی بعض شقوں پربحث ہونی چاہئے تھی تاہم ہماراموقف ہے کہ سویلین سپریمیسی تک جانے کیلئے ہمیں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاناچاہئے، بائیکاٹ آپشن نہیں ہوناچاہئے،ماضی میں ہم نے 17نشستوں کے ساتھ بھی اپناکرداراداکیاہے۔
انہوں نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم میں وفاقی ڈھانچہ اور وسائل کے حوالہ سے شقوں کی پی پی پی نے مخالفت کی ،ہم صوبائی خودمختاری پرکوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے،اس کاکریڈٹ پی پی پی کودیناچاہئے،اسی طرح چیف الیکشن کمیشن کمشنرکی تقرری، ایگزیکٹومجسٹریسی کی بحالی اوردوہری شہریت کے حوالہ سے شقوں کی بھی ہم نے مخالفت کی ملکی حالات کودیکھتے ہوئے ہم نے آرٹیکل 243کی حمایت کی ہے،وفاقی آئینی عدالت کے قیام کیلئے پی پی پی کی جدوجہدرہی ہے،ججوں کی ٹرانسفرکوشفاف بنانے کیلئے متعلقہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ استثنیٰ جنگی ہیروز کیلئے ہے،اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہئے۔ارشدعبداللہ ووہرہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ آئینی ترامیم پارلیمانی جمہوریت اورطریقہ کارکاحصہ ہے،ملک کی آبادی میں تبدیلی آئی ہے،آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہواہے، اس کی بنیادپروسائل کی تخصیص ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان نے اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی کی شرط پرحکومت کی حمایت کی ہے،اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی سے جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے، آرٹیکل 140اے میں ترامیم ہونی چاہئے۔چنگیزخان کاکڑنے کہاکہ ججز کی ٹرانسفرکی ترمیم کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔شہریارآفریدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ریاست کا شہریوں کے ساتھ آئین کی صورت میں سوشل کنٹریکٹ ہوتا ہے،جیو سٹرٹیجک پوزیشن کی وجہ سے پاکستان کے عوام تکلیف سے گزر رہے ہیں، ہماری افواج دہشت گردی کابھرپوراندازمیں مقابلہ کررہی ہے، اس صورتحال کے تناظرمیں قوم کومتحدرکھنے کی ضرورت ہے،جلدبازی میں آئینی ترامیم سے گریز کرناچاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پی پی پی اوردیگرجماعتیں ماضی میں سول سپریمیسی اورمیثاق جمہوریت کی دعویدارتھیں مگران جماعتوں نے اپنی پالیسیوں سے اپنی سیاست ختم کردی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں امن نہیں آئے گا اس وقت تک ملک کے مفادات کاتحفظ نہیں کیاجاسکتا۔پارلیمانی سیکرٹری میاں خان بگٹی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم کسی ایک شخص کیلئے نہیں بلکہ ملک اورقوم کیلئے ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشت گردی وہ تنظیمیں کررہی ہیں جوپہاڑوں پربیٹھی ہیں وہ افغانستان اورانڈیا کے ایجنٹ بنے ہیں،یہ لوگ بات چیت اورمذاکرات پریقین نہیں رکھتے۔انہوں نے کہاکہ محمودخان اچکزئی نے اپنی تقریر میں کہاہے کہ اپوزیشن مذاکرات کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم نے اپوزیشن کوکئی بارمذاکرات کی دعوت دی ہے مگریہ لوگ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملک کے دفاع اورسرحدوں کی حفاظت پرسیاست نہیں چمکانی چاہئے، اپوزیشن جماعتوں کواس ترمیم کی حمایت کرنی چاہئے۔ اسامہ احمدمیلہ نے کہاکہ حکمران اتحاد کومیثاق جمہوریت پرمکمل عمل درآمدکرنا چاہیے اوراسے محض آئینی عدالت تک محدود نہیں رکھناچاہئے،اگرمیثاق جمہوریت کواپنی اصل شکل میں آئین کا حصہ بنایا جاتا ہے توہم بھی اس کی حمایت کریں گے۔پی پی پی کی شہلارضانے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کواندرونی اوربیرونی خطرات اورچیلنجز کاسامنا ہے، اس وقت قومی مفاد کوآگے بڑھانے کیلئے آئینی فریم ورک اورمضبوط دفاع اوروفاق کومضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کوکمیٹی میں جاکراپنااختلافی موقف دینا چاہئے تھا مگران جماعتوں نے یہ موقع ضائع کردیا ہے،عوام کوانصاف کی جلدفراہمی کیلئے عدلیہ میں اصلاحات ضروری ہے، آئینی ترمیم میں ججز کی ٹرانسفرکاطریقہ کارشفاف بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔سپریم کمانڈر کیلئے استثنیٰ کی تجویزکسی فرد واحد کیلئے نہیں بلکہ عہدے کیلئے ہے اس پردھول اڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔وزیر دفاع نے 28 ویں ترمیم لانے کی بات کی،محروم علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے تجاویز لائی جائیں ہم یہاں اس کو زیر بحث لائیں گے۔
خواجہ اظہار الحق نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں،ایک چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے خلاف جعلی بھرتیوں کا کیس سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور وہ ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر ایم کیو ایم کے علاؤہ سب کے دستخط ہیں، لوکل باڈیز الیکشن کے عام انتخابات کے 3 ماہ کے اندر انعقاد کی شق سمیت کچھ شقوں پر عمل نہیں ہوا،اس کی شق 10 میں لوکل گورنمنٹ کو قانونی تحفظ دینے کی بات کی گئی،ہم27 ویں ترمیم کی مکمل حمایت کرتے ہیں،فتح اللہ خان نے کہا کہ 27 ویں ترمیم ملک کی ضرورت تھی، یہ ترمیم پاک،فوج،عدلیہ کی ہم آہنگی اور اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے ہے،ماضی میں اپوزیشن نے اداروں کو لڑانے کی کوشش کی۔
ہم نے ایوان کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔اس ملک کے فیصلے اس ایوان نے کرنے ہیں۔شمائلہ رانا نے کہا کہ اپوزیشن نے 27 ویں ترمیم کا مسودہ پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا اور اس کو تنقید کا نشانہ بناتی رہیاپوزیشن کو ملکی مفاد سے زیادہ قیدی نمبر 804 کا مفاد عزیز ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن ناز بلوچ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو بابائے جمہوریت ہیں،پیپلز پارٹی نے اس ورثہ کو جاری رکھا ہوا ہے،صدر آصف زرداری نے اپنے اختیارات پارلیمان کو واپس کئے۔سیاسی اور آئینی معاملات نمٹانے کے لئے وفاقی آئینی عدالت کا قیام ضروری ہے اور پیپلز پارٹی اس کے حق میں ہے۔
اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے کہا کہ جنگ جیتنے اور دشمن کے جہاز گرانے پر ہم بھی خوش ہیں،ہم جمہوری لوگ ہیں،جمہوریت کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔اسد نیازی نے کہا کہ 27 ویں ترمیم پر پیپلز پارٹی نے طویل مشاورت کی،27 ترمیم میں قانونی طریقہ کار اختیار کیاگیا۔شاہدہ رحمانی نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت میں کم ازکم دو خواتین جج تعینات کی جائیں، ہم نے 18 ویں ترمیم کو بچایا،ہماری قیادت نے اسے اپنی ریڈ لائن قراردیا،ہمیں پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونا ہوگا۔



