وزیراعظم کا پاکستان ریلوے کو جدید بنانے کا عزم، نئی شالیمار ایکسپریس اور کراچی کینٹ سٹیشن کی اپ گریڈ سہولیات کا افتتاح

کراچی (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن، جدت اور جدید سہولیات کی فراہمی ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کو جدید خطوط پر استوار کرے گی، صوبے اور ملک بھر کے تمام ریلوے سٹیشنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں نیو شالیمار ایکسپریس اور کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن کے اپ گریڈ شدہ ویٹنگ رومز اور سی آئی پی لائونچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ،غیر ملکی سفارتکار،ارکان پارلیمنٹ اور وفاقی و صوبائی حکام بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزارت سنبھالتے ہی وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے انتھک محنت کی،لاہور ریلوے سٹیشن کی بحالی کے بعد اب کراچی کینٹ سٹیشن کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر صوبے کے تمام ریلوے سٹیشنوں کو جدید بنایا جائے تاکہ مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم ہوں وزیراعظم نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی ہم آہنگی پیدا کی جائے گی تاکہ پاکستان ریلوے کو خطے کا بہترین سفری نظام بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کے فریٹ سسٹم کو بھی منظم کیا جا رہا ہے اور تھر کول کی ترسیل کے لیے وفاقی اور سندھ حکومتیں 50 فیصد شراکت کے ساتھ مشترکہ منصوبہ چلا رہی ہیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ منصوبوں کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے تمام ضروری فنڈز جاری کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی شالیمار ایکسپریس کو مکمل طور پر نئی اور جدید ٹرین میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کراچی کو معاشی مرکز اور “پاکستان کا دل” قرار دیا انہوں نے اعادہ کیا کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا تاکہ ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ذریعے ملکی معیشت کو استحکام دیا جا سکے۔وزیراعظم نے حنیف عباسی کی قیادت کی تعریف کی اور انہیں ’’آج کی تقریب کا ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے فرسودہ ریلوے نظام میں تبدیلی لانے پر مبارکباد دی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ریلوے نیٹ ورک کو وسطی ایشیا تک توسیع دے گی، خصوصاً ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے لائن منصوبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسلام آباد-تہران-استنبول ریلوے روٹ کی بحالی پر بھی زور دیا جس سے معیشت نئی بلندیوں کو چھوئے گی ۔وزیراعظم نے کہا کہ کہ حنیف عباسی ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ 2 ارب ڈالر کے قرض کے لیے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ کراچی سے روہڑی تک ریلوے لائن کو مزید اپ گریڈ کیا جا سکے اور اسے ریکوڈک منصوبے سے منسلک کیا جا سکے وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی خواہش پر کے سی آر کو سی پیک میں شامل کرنے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کراچی کے عوام کے لیے ناگزیر منصوبہ ہے اور اسے ہر عالمی فورم پر اجاگر کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 54 ریلوے سٹیشنز پہلے ہی جدید بنائے جائے جا چکے ہیں اور جب تمام چھوٹے بڑے سٹیشنز اپ گریڈ ہو جائیں گے تو وہ وزیر ریلوے کے لیے صدارتی ایوارڈ کی سفارش کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت 14 ٹرینوں کو آئوٹ سورس کیا جا رہا ہے جبکہ ریلوے کے ہسپتال اور سکول بھی نجی انتظامیہ کے حوالے کیے جا رہے ہیں تاہم ریلوے ملازمین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ کہ ایم ایل-1 منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کی رہنمائی میں صرف آٹھ ماہ کے اندر شاندار بہتری دیکھنے میں آئی ہے جن میں کراچی کینٹ سٹیشن کو جدید بنانے اور شالیمار ایکسپریس کی تجدید شامل ہے انہوں نے کہا کہ روہڑی سٹیشن کی اپ گریڈیشن پر 1 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی سٹی سٹیشن پر بھی کام جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی آمد پر وزیراعظم کا خیرمقدم کیا اور صوبائی حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

قبل ازیں وزیراعظم نے کراچی کینٹ سٹیشن پر نیو شالیمار ایکسپریس کا افتتاح کیا اور سہولیات کو جدید بنانے اور ڈیجیٹائزیشن کے کاموں کا جائزہ لیا۔انہوں نے اپ گریڈ شدہ ویٹنگ ایریا، سی آئی پی لائونج، جدید ڈائننگ ہال اور کمپیوٹرائزڈ ٹکٹنگ سسٹم کا بھی معائنہ کیا۔