اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات، دفاع، سلامتی، صحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیاتی تعاون مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ اور دو طرفہ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا ہے منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد میں استقبال کیا،صدر پرابووو سوبیانتو کو وزیراعظم ہائوس آمد پر گارڈ آف آنر دیا گیا دونوں رہنمائوں کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی جس کے بعد اعلیٰ سطحی وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔
دونوں رہنمائوں نے انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بشمول سیاسی و سفارتی مصروفیات، اقتصادی اور تجارتی تعلقات، دفاع اور سلامتی، صحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔دو طرفہ تجارت کے حوالے سے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو مزید بڑھانے کے لیے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA) پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا جس کی مالیت تقریباً 4 بلین امریکی ڈالر ہے مزید برآں تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی کوششیں شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے خاص طور پر حلال صنعت، زرعی اجناس کی تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں رہنمائوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور انڈونیشیا کے خودمختار دولت فنڈ کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم نے صدر پرابوو کے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی اقدامات بشمول ’’مفت غذائیت سے بھرپور کھانے کا پروگرام‘‘ کی تعریف کی صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں انڈونیشیا کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے طبی ماہرین کے تبادلے، طبی قابلیت کی باہمی شناخت اور خصوصی تربیت کی پیشکش کے ذریعے تعاون کو بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنمائوں نے کشمیر اور غزہ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے غزہ میں صدر پرابوو کی فعال سفارتی اور انسانی کوششوں کو سراہا اور جنگ بندی کے انتظامات کو آگے بڑھانے اور انسانی امداد کی فراہمی میں ان کے کردار کو سراہا۔دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور ڈی ایٹ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور فعال تعاون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے انڈونیشیا کو ڈی ایٹ کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور انڈونیشیا کے صدر کو اس فورم پر پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا بات چیت کے بعد دونوں رہنمائوں نے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا۔یہ دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہےجو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔




