اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )تحریک تحفظ آئین کے رہنماؤں نے کہا ہےکہ27 آئینی ترمیم میں پاکستان کی عدالتوں کو داغدار کیا گیا ہے، آئین کو مسخ کر کے چند افراد کو نواز دیا گیا، حکومت نے 27 آئینی ترمیم کےذریعے چار جھوٹے خدا بنائے ہیں،خود کو مستثنیٰ قرار دینے والوں کے ارادے خطرناک ہیں، اب ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے،27 آئینی ترمیم میں ووٹ دینے والوں نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے،نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مجلس وحدت المسلمین(ایم ڈبلیو ایم)کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ،سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ ،سینئرسیاستدان مصطفی نواز کھوکھر ودیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ آئین میں ہے کہ حاکمیت اعلیٰ صرف اللّٰہ تعالی کی ہے،آئینی ترمیم سے انسانوں کو خدا بنایا گیا ہے۔پاکستان کا صدر ملک کے ساتھ جو بھی کرئے اس سے کوئی بھی پونچھنے والا نہیں۔پاکستان میں کس نے مارشل لاء لگائے گئے،حکمران عوام کے ساتھ آدھا سچ بولنے ہیںجو پورا جھوٹ ہوتا ہے،27 آئینی ترمیم سے پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے،27 آئینی ترمیم سے پاکستان کی تباہی ہو رہی ہے،پیپلز پارٹی جو جمہوریت کی چمپئن کہتی ہے وہ بھی اس ترمیم میں شامل ہے.
27 آئینی ترمیم کے زریعے حکومت نے پاکستان کے آئین پر حملہ کیا ہے،مفاد پرستوں نے ذاتی مفاد کےلیے ترامیم کر کے عوام کو دھوکا دیا، یہ آپ سے ووٹ مانگنے آئیں گے، اس موقع پر پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ روز کل شام سینٹ میں 27 آئینی ترمیم پاس کی گئی،کل دو سینٹرز نے اپنی پارٹی سے غداری کی ،سینٹرز سے زبردستی بہت ڈلوایا گیا،اس 27 آئینی ترمیم سے عدلیہ کی حیثیت کو ختم کر دیا،میں آج ایک مقدمہ کے حوالے سے عدالت پیش ہوا تو ججز کے سر شرم جھکے ہوئے تھے،8 فروری کو ہی ٹی آئی کا انتخاب چوری کیا گیا، 27 آئینی ترمیم میں صدر پاکستان کو تمام مقدمات سے استنی دے دیا گیا ہے جس پر ہزاروں مقدمات ہیں ان کو استنی دیا گیا ہے،صدر کی طرح آرمی چیف کو بھی عمر بھر کے لیے استنی دیا گیا،اب اگر کوئی اغوا ہو گا تو اس کے خلاف بھی پٹیشن دائر نہیں کی جائے گئی،اس آئینی ترمیم کےذریعے وہ اپنے ججز عدالتوں میں لگائے گئے،78 سال سے پاکستان میں دو خاندانوں نے قبضہ کیا ہوا ہے،سابق گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کل مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کل صبح انتقال کر گئے تھے.
حکومت نے ان کے لئے دعا کرنے کی بجائے 27 آئینی ترمیم پاس کروائی گئی،27 آئینی ترمیم پاس کروانے کی اتنی جلدی تھی کہ عرفان صدیقی کے انتقال کو بھی نہیں دیکھا گیا،27 آئینی ترمیم کے زریعے چیف جسٹس کی حیثیت بھی اب ختم ہو جائے گی،پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کو بھی کسی اور کو دے دی گئی 27 آئینی ترمیم کے زریعے عدلیہ پر قبضہ کر لیا گیا ہے،27 آئینی ترمیم کے زریعے ججز کو بھی ٹرانسفر کیا جائے گا عدالتوں میں اپنے ججز لگائے گئے،جو ان کے خلاف فیصلہ دے گا اس کی ٹرانسفر کردی جائے گی ،، 27ویں آئینی ترمیم میں پاکستان کی عدالتوں کو داغدار کیا گیا، عدالتوں کی بے توقیری ہوگی ،انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس کی حیثیت بھی اب ختم ہو جائے گئی اور اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ججز کو بھی ٹرانسفر کیا جائے گا۔ عدالتوں میں اپنے ججز لگائے جائیں گے اور جو ان کے خلاف فیصلہ دے گا اس کی ٹرانسفر کر دی جائے گی،مشرف کو آئین سے کھلواڑ پر آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا پڑا اور ستائیسویں ترمیم کے بعد بھی آرٹیکل6 موجود ہے.
وقت آنے پر سب کو حساب دینا ہوگا،سینئر سیاستدان مصطفی نواز کھوکھرکا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام سیاسی جماعتیں 27 آئینی ترمیم پر تحفظات کر رہے ہیں،ان اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آواز کو سنے،اس سے ادارے تباہ ہو سکتے ہیں ،کل جسٹس منصور علی شاہ کا بھی ایک خط سامنا آیا ہے، مگر معاملہ خط سے آگے جا چکا ہے، باقی ججز شاید اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرنا چاہتے، اگر جج صاحبان خوش ہیں تو تاریخ میں گمنام ہوں گے،عدالتوں کو محفوظ کرنے کے لئے تمام ججز کو اپنا کردار ادا کر نا ہو گا، دیگر جج صاحبان کو بھی سامنے آنا چاہیے، جج صاحبان کو لیڈر شپ دیکھانا چاہیے اور یہ تصور زائل کرنا ہوگا کہ عدلیہ ستو پی کر سو رہی ہے،انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں صدر پاکستان کو تمام مقدمات سے استثنا دے دیا گیا ہے، جس پر ہزاروں مقدمات ہیں ان کو استثنا دیا گیا ہے۔ صدر کی طرح آرمی چیف کو بھی عمر بھر کے لیے استثنا دیا گیا، اب اگر کوئی اغوا ہوگا تو اس کے خلاف بھی پٹیشن دائر نہیں کی جائے گی۔



