اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت مقامی سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا قدم کے طور پر سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن میں 7,200 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کے لئے 4.5 ارب روپے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ وہ بدھ کو مارگلہ ڈائیلاگ 2025 سے خطاب کر رہی تھیں ،جس کا موضوع ’’الگورتھمک وار: اے آئی کس طرح اثر اور سلامتی کی نئی تعریف کر رہا ہے‘‘ تھا۔ انہوں کہا کہ وزیر اعظم نے قومی سیمی کنڈکٹر کی مہارت کو فروغ دینے کے لئے ’’انسپائر‘‘ اقدام سمیت متعدد اربوں روپے کے پروگرام شروع کئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں پبلک سیکٹر کی مالی اعانت سے چلنے والے ہائی ٹیک ٹریننگ پروگرام پہلے ہی سالانہ 5 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دیتے ہیں جو پاکستان کو مستقبل کے چیلنجوں اور مواقع کے لئے تیار کرنے کے لیے اہم انسانی وسائل تیار کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی اور نان ٹیکنالوجی دونوں شعبوں میں ٹیلنٹ کو فروغ دے کر اپنی افرادی قوت کے مستقبل پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کوششیں صنعتوں میں ملک کی مسابقت کے لئے اہم ہیں۔عالمی اے آئی انقلاب پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی یا معاشی کارکردگی سے متعلق نہیں ہےبلکہ اے آئی قومی سلامتی کا معاملہ بن گیا ہے جو عالمی ترجیحات کو متاثر کرتا ہے اور مستقبل کی حکمت عملیوں کی تشکیل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے اب جیوسٹرٹیجک اثرات ہیں جو قومی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پاکستان کی معیشت، مالیات، صحت کی دیکھ بھال، زراعت اور مینوفیکچرنگ کو تبدیل کر رہی ہے اور اسے ملک کے مستقبل کے لئے مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی کے ایک ستون کے طور پر اے آئی کے کردار کو نمایاں کیا جس میں سائبر سکیورٹی سب سے اہم ہے انہوں نے فعال فیصلہ سازی، پیش گوئی کرنے والے تجزیہ، خطرات سے متعلق مضبوط انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل خطرات سے بچاؤ کے لئے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔شزہ فاطمہ خواجہ نے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے صنعت، تعلیمی اداروں اور پبلک سیکٹر کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے مزید کہا کہ وزارت نے پہلے ہی اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کے قیام، نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو شروع کرنے اور پاکستان کی ڈیجیٹل سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے نجی شعبے کی کوششوں کی حمایت کرنے کی بنیاد رکھی ہے۔



