اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)حکومتِ پاکستان نے پاکستان میں فرانس کے سفارتخانے کے تعاون سے”پاکستان منرلز اکانومی: گیٹ وے ٹو گروتھ“کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی ویبینار کا انعقاد کیا، جس کا مقصد ملک کے وسیع معدنی وسائل کو اجاگر کرنا اور فرانسیسی کمپنیوں و سرمایہ کاروں کے لیے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا تھا۔
تفصیلات کے مطابق یہ ویبینار وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں فرانس کے سفیر نکولس گیلے کی مشترکہ صدارت میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اسٹریٹجک معدنیات اور دھاتوں کی فراہمی کے لیے بین الصوبائی نمائندے اور فرانس کے صدر کے معدنیات کے مشیر بینجمن گیلزونے فرانسیسی وفد کی قیادت آن لائن کی۔ ویبینار میں وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن)، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، پاکستان کی معروف معدنی و توانائی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام اور فرانسیسی کاروباری نمائندے شریک ہوئے۔ فرانس میں پاکستان کی سفیر، ممتاز زہرہ بلوچ نے بھی اجلاس میں آن لائن شرکت کی شرکاء میں ایم ڈی/سی ای او او جی ڈی سی ایل احمد حیات لک، جی ایچ پی ایل، پی پی ایل اور پی ایم ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹر جنرل مائنز، اور مختلف سرکاری و نجی اداروں کے سینئر افسران شامل تھے۔ متعدد فرانسیسی کمپنیاں اور سفارتکار بھی ویبینار میں ورچوئل طور پر شریک ہوئے، جنہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں اور ممکنہ شراکت داریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ”پاکستان تانبے، سونے اور نایاب معدنی وسائل کے بے پناہ ذخائر رکھتا ہے، جو صاف توانائی کی عالمی منتقلی اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک پائیدار اور شفاف معدنی شعبے کے قیام کے لیے پرعزم ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی بلکہ عالمی توانائی کی ضروریات میں بھی مدددے گا۔ انہوں نے کہا،”دنیا میں سبز توانائی کی جانب تبدیلی نے تانبے، لیتھیئم اور نایاب معدنی عناصر کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے ناگزیر بنا دیا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقے، خصوصاً بلوچستان کا چاغی بیلٹ، سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان ایس آئی ایف سی کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت اور شفاف ضابطہ جاتی فریم ورک فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے معدنی شعبے میں کاروبار میں آسانی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں نیشنل منرلز ہارمونائزیشن فریم ورک کی تیاری، ارضیاتی معلومات کی ڈیجیٹلائزیشن، اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی بحالی شامل ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد شفافیت میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کو قابلِ اعتماد ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ علی پرویز ملک نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 (PMIF25) کی کامیابی کا بھی ذکر کیا، جس میں 50 سے زائد ممالک کے 5,000 سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی اور 16 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلا فورم PMIF26 اپریل 2026 میں منعقد ہوگا۔ ان کے مطابق،پی ایم آئی ایف ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جو سرمایہ کاروں، ماہرین اور کمپنیوں کو یکجا کر کے پاکستان کے معدنی شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی راہیں ہموار کرتا ہے۔
فرانس کے سفیر نکولس گیلے نے پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ فرانس معدنیات کے شعبے میں شراکت داری کے امکانات میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”فرانسیسی کمپنیاں پاکستان کے معدنی وسائل کی حقیقی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہیں اور پائیدار کان کنی کے منصوبوں میں شمولیت کی خواہاں ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے اور معلومات و مہارت کے تبادلے کے منتظر ہیں۔ فرانس کے صدر کے معدنیات کے مشیر بینجمن گیلزونے کہا کہ یہ فورم فرانسیسی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے معدنی شعبے میں مواقع اجاگر کرنے کے حوالے سے نہایت مفید ہے اجلاس کے دوران شرکاء کو حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں کو سہولیات اور منصوبوں کے تحفظ سے متعلق پالیسیوں پر بریفنگ دی گئی۔ پاکستانی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان معدنیات کی تلاش، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی/سی ای او احمد حیات لک نے کہا کہ”پاکستانی کمپنیاں فرانسیسی اداروں کے ساتھ جاری اور نئے منصوبوں میں شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔ ان کا مزیدکہنا تھاکہ،”پاکستان کی معدنی صنعت سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع پیش کرتی ہے، اور ہم فرانسیسی کمپنیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ تلاش اور ترقیاتی منصوبوں میں شراکت کریں تاکہ باہمی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ ویبینار کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ پاکستان اور فرانس کے متعلقہ ادارے معدنیات کی تلاش، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار کان کنی کے طریقوں میں تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے کے لیے رابطہ برقرار رکھیں گے۔



