اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی سیکرٹری برائے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، امیر محی الدین نے 29 اکتوبر 2025 کو بین الصوبائی سطح پر گندم کے بیج اور آٹے کی ترسیل میں تاخیر کی شکایات موصول ہونے کے بعد صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ بعد ازاں 5 اور 12 نومبر 2025 کو اس حوالے سے نظرِ ثانی کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے اجلاس میں محکمہ زراعت پنجاب، محکمہ زراعت سندھ، محکمہ زراعت توسیع خیبر پختونخوا، محکمہ زراعت بلوچستان، پرائس کنٹرول اور کموڈیٹی مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ پنجاب، محکمہ خوراک سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، نیشنل سیڈ ڈیویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) کے نمائندگان نے شرکت کی۔
پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے تسلیم کیا کہ خاطر خواہ پیش رفت کے باوجود بعض چیک پوسٹس پر تصدیق اور دستاویزات کی عدم تکمیل کے باعث بیج کی ترسیل میں تاخیر کا سامنا ہے سیکرٹری زراعت بلوچستان نے بتایا کہ صوبے کے مقررہ ہدف 5 لاکھ ہیکٹر کے لیے درکار تصدیق شدہ بیج کی فراہمی میں کمی ہے۔ روزانہ 50 ہزار تھیلے درکار ہیں، تاہم 29 اکتوبر 2025 تک صرف 12 سے 13 ہزار تھیلے روزانہ موصول ہو رہے تھے۔ اس سست رفتار ترسیل سے کئی اضلاع میں گندم کی بوائی متاثر ہونے کا خدشہ تھا، جسے فوری نوعیت کا مسئلہ قرار دیا گیا خیبر پختونخوا سے موصولہ رپورٹس کے مطابق رامک چیک پوسٹ پر تقریباً 100 ٹرک بیج لے کر پنجاب سے آنے کے باوجود رُکے ہوئے تھے۔ اسی طرح دیگر سرحدی چیک پوسٹس پر بھی تاخیر کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے کسانوں کو بروقت تصدیق شدہ بیج کی فراہمی متاثر ہوئی۔
وفاقی وزارت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے خوراک اور زراعت کے محکموں کو ہدایت کی کہ وہ پنجاب کے ہم منصب محکموں سے براہِ راست رابطہ کر کے بیج کی ترسیل کو یقینی بنائیں۔ پنجاب حکومت نے بلوچستان کے بوائی شیڈول کے مطابق بروقت بیج روانہ کرنے کی یقین دہانی کرائی سندھ میں بیج کی ضرورت کا تخمینہ 3.7 ملین میٹرک ٹن لگایا گیا، تاہم 29 اکتوبر تک صرف 19,800 میٹرک ٹن منتقل ہو سکا۔ طلب اور فراہمی میں اس نمایاں فرق پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ وفاقی اداروں اور بیج فراہم کرنے والی کمپنیوں سے قریبی رابطہ رکھے تاکہ فرق کم کیا جا سکے وفاقی سیڈ سرٹیفکیشن و رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (FSC&RD) اور نیشنل سیڈ اتھارٹی (NSA) نے خبردار کیا کہ بعض جعلی بیج آٹے کی ترسیل کے نام پر بھیجے جا رہے ہیں۔ MNFSR نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام ترسیلات کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کی تاکہ جعلی بیج کی گردش روکی جا سکے۔
مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے وزارت نے ہدایت کی کہ وفاقی سیڈ آرگنائزیشن (FSO)، FSC&RD اور متعلقہ صوبائی نمائندے کلیدی داخلی و خارجی پوائنٹس پر تعینات کیے جائیں تاکہ تصدیق اور مسائل کا موقع پر ہی حل کیا جا سکے ابتدائی اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام صوبے تصدیق شدہ کانوائے نوٹس کے ذریعے بیج کی بین الصوبائی ترسیل کے لیے طے شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ پنجاب کو خصوصی طور پر ہدایت دی گئی کہ وہ بلوچستان اور سندھ کو بروقت بیج روانہ کرے تاکہ بوائی میں تاخیر اور پیداوار میں نقصان سے بچا جا سکے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ بیج اور آٹے کی ترسیل کے روزانہ کے اعداد و شمار وزارت کو بھجوائیں، جبکہ وزارت ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ جاری کرے گی اور عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ہفتہ وار اجلاس منعقد کرے گی۔
مزید برآں، FSC&RD اور صوبائی ٹیموں پر مشتمل مشترکہ اینٹی ہورڈنگ اور جعلی بیج کی جانچ کے اقدامات جاری رہیں گے، جبکہ آٹے کی ملک گیر نقل و حمل کو بھی آسان بنایا جائے گا تاکہ گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت یا قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔ پنجاب کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی کہ وہ رامک اور دیگر مقامات پر پھنسے ہوئے 100 سے زائد ٹرکوں کی فوری کلیئرنس کو یقینی بنائے وفاقی سیکرٹری امیر محی الدین کی قیادت میں کیے گئے بروقت اور مربوط اقدامات، اور صوبائی محکموں کی جانب سے ایس او پیز کے سختی سے نفاذ کے نتیجے میں بیج کی ترسیل کے تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو گئے 12 نومبر 2025 تک تمام صوبوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں تصدیق شدہ گندم کے بیج کی ترسیل بلا تعطل اور مؤثر انداز میں جاری ہے



