پاکستان اور سعودی عرب نے بحری تعاون اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان اور سعودی عرب نے لندن میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کی اسمبلی کے موقع پر بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور سعودی وزیر برائے ٹرانسپورٹ صالح الجاسر نے شپنگ، بندرگاہوں کی ترقی اور بحری تربیت میں تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقین نے موجودہ شراکت داری کا جائزہ لیا اور نجی شعبے کی شمولیت کے نئے مواقع تلاش کیے، خاص طور پر پاکستان کے “Maritime Vision 2047” کے مطابق، جس کا مقصد بندرگاہوں کو جدید بنانا.

شپنگ کی صلاحیت بڑھانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے محمد جنید انور چوہدری نے تین اہم سرمایہ کاری منصوبے پیش کیے، جن میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور سعودی عرب کی “البحری شپنگ لائن” کے درمیان شراکت داری، دونوں ممالک کی بحری کمپنیوں کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون کو بڑھانا، اور کراچی پورٹ ٹرسٹ اور جدہ اسلامک پورٹ کے درمیان ممکنہ “سسٹر پورٹ” معاہدے پر غور شامل ہے تاکہ تجارتی اور تکنیکی تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔

سعودی وفد نے طویل مدتی بحری تعاون کو رسمی شکل دینے کے لیے یادداشت (MoU) کا ڈرافٹ فراہم کرنے کی پیشکش کی اور علاقائی تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک قائم کرنے پر زور دیا۔ مزید برآں، ریڈ سی گیٹ وے ٹرمینل، سعودی عرب کی ایک بڑی بندرگاہ آپریٹر کمپنی، نے پاکستان کی بندرگاہی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع میں دلچسپی ظاہر کی، جو سعودی بحری شعبے میں بڑھتے ہوئے تجارتی رجحانات کی عکاسی ہے پاکستانی میرینز کی تربیت اور صلاحیت سازی بھی اہم موضوع رہا، جس میں سعودی جہازوں پر آن بورڈ تربیتی مواقع فراہم کرنے پر بات ہوئی تاکہ مہارتوں میں اضافہ اور بحری صنعت میں روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔