اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )چیئرمین کمپٹیشن کمیشن نے ملک بھر کے سترہ بڑے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نام پر من پسند سکول کی کاپیاں یونیفارم ورک بک مخصوص مافیا سے خریدنے پر مجبور کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف 10 سالوں سے التوا کا شکار طلبہ ، والدین کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے 14 دنوں میں جواب طلب کر لیا ،کمپٹیشن کمیشن میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں جن میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بہن فوزیہ قصوری کے بیکن ہاؤس سکول سسٹم ، سٹی سکول اور دی ایجوکیٹر کی جانب سے بچوں کو تعلیم کے نام پر سکول کی کاپیاں کتابیں سکول بیگ اور یونیفارم مذکورہ سکولوں کے لوگو والے خریدنے کی شرط پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کمپٹیشن کمیشن نے 14 دن میں جواب طلب کر لیا ہے
بالا تعلیمی اداروں کے خلاف 2015 میں طلبہ اور والدین نے درخواستیں دے رکھی تھیں کہ مذکورہ بالا تعلیمی ادارے مختلف بہانوں سے پیسہ بنا رہے ہیں درخواستیں دیں جس پر مذکورہ تعلیمی اداروں نے مختلف عدالتوں سے ان درخواستوں کے خلاف عدالتوں سے حکم امتناعی لے رکھا تھا جس کے باعث کمپٹیشن کمیشن میں یہ درخواستیں 10 سالوں سے التوا کا شکار تھی نئے آنے والے چیئرمین کبیر سندھو نے آتے ہی عدالتوں سے سٹے آرڈر ختم کروائے اور ان تعلیمی اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے.
ملک کے بڑے نجی اسکول سسٹمز کو تعلیمی شعبے میں اپنی جارہ داری کا غلط استعمال کرتے ہوئے، طلباء اور والدین کو سکول کے لوگو والی مہنگی نوٹ بُکس، ورک بُکس اور یونیفارمز صرف اسکول یا اسکول کے منظور شدہ دکانوں سے خریدنے پر مجبور کرنے پر ۔ کمپٹیشن کمیشن نے شوکاز نوٹس جاری کئے ہیں۔ کمپٹیشن کمیشن نے ایسے اسکولوں کیخلاف شکایات موصول ہونے پر سو موٹو اقدام کرتے ہوئے انکوائری کی۔ انکوائری میں اس بات کے واضح ثبوت ملے کہ یہ اسکول سسٹم، اپنے تمام برانچوں اور فرنچائز ، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے ، اور ان میں لاکھوں طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں، بیکن ہاؤس سکول سسٹم ، سٹی سکول اور دی ایجوکیٹر میں ایڈمیشن حاصل کرنے والے طلباء کو اسکول کی ہی کاپیاں ، یونیفارم اور ورک بک اسکول سے یا مخصوص دکانون سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان اسکولوں نے گائیڈ لائنز اور پالیسی کے نام پر اسکول کی اپنی پراڈکٹ کی خریداری کے لئے سخت اصول لاگو کر رکھے ہیں ، اور والدین کے پاس کھلے بازار سے نسبتاً سستے داموں متبادل کاپیاں اور دیگر تعلیمی پراڈکت خریدنے کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔جن اسکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز جاری ہوئے ہیں ان میں بیکن ہاؤس سکول سسٹم ، سٹی سکول اور دی ایجوکیٹر شامل ہیں ۔ یہ ادارے ملک بھر میں سیکڑوں کیمپسز چلاتے ہیں اور وسیع تعداد میں طلبہ پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کے پاس نمایاں مارکیٹ طاقت موجود ہے۔
کمپٹیشن کمیشن کی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ والدین کو لوگو والی اسٹیشنری، ورک بُکس اور یونیفارمز صرف اسکول کے منتخب کردہ وینڈرز سے خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ کئی اسکولوں میں لازمی اسٹڈی پیکس آن لائن پورٹلز یا مخصوص دکانوں کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں اور عام طور پر طلبہ کو کھلے بازار سے خریدی گئی کاپیاں یا یونیفارم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق کئی اسٹڈی پیکس کی قیمت کھلی مارکیٹ میں دستیاب یکساں اشیاء کے مقابلے میں 280 فیصد تک زیادہ پائی گئی۔اس کے علاوہ مخصوص وینڈرز کی تقرری سے ہزاروں اسٹیشنری فروشوں اور یونیفارم تیار کرنے والے چھوٹے کاروباروں کی مارکیٹ بری طرح محدود تی ہے۔ اسکولوں کی جانب سے ایسے انتظام کو مشروط فروخت کہا جاتا ہے جو کہ کمپٹیشن کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔طلباء کی ایک اسکول سے دوسرے اسکول میں منتقلی کی زیادہ لاگت، محدود تعلیمی متبادل، اور سفر کی مشکلات والدین کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اسکول کے نافذ کردہ تمام تجارتی فیصلوں پر عمل کریں، یوں طلبہ کو ’یرغمال صارفین‘ بن جاتے ہیں، جن پر اسکول کی انتظامیہ اپنی اجارہ داری کا غلط استعمال کرتی ہے۔پاکستان میں نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد مجموعی انرولمنٹ کا تقریباً نصف ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں مہنگے برانڈڈ اسٹڈی پیکس اور یونیفارمز والدین کے لیے اضافی مالی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں اور تعلیم کے شعبے میں غیر ضروری کاروباری رجحانات کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔کمیشن نے ان تمام اسکول سسٹمز سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بہن فوزیہ قصوری کے بیکن ہاؤس سکول سسٹم ، سٹی سکول اور دی ایجوکیٹر کی کو چودہ دن کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کرانے کی صورت میں یکطرفہ کارروائی کی جائے گی۔ قانون کے مطابق کمپٹیشن کمیشن تجارتی ادارے کے سالانہ ٹرن اوور کا 10 فیصد یا 750 ملین روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے، یاد رہے کہ مذکورہ بالا تعلیمی اداروں کے خلاف 2025 سے یہ انکوائرئیاں التوا کا شکار تھی۔



