اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ جدید معلوماتی ٹیکنالوجی بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے ذریعے ہم دنیا بھر میں خیالات، صلاحیتوں اور وسائل کا ایسا اشتراک ممکن بنا سکتے ہیں جو ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر بڑا سفر ایک چھوٹے قدم سے شروع ہوتا ہے اور آج پاکستان آئی ٹی کے شعبے میں اسی نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔وہ ہفتہ کو اسلام آباد میں آئی ٹی سے متعلق ایک اہم تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس سفر میں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف جا رہی ہے، ایسے میں آئی ٹی کا شعبہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر شناخت کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی وہ طاقتور ذریعہ ہے جس کے ذریعے خیالات کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مستقبل کی تعمیر صرف ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں اس کے ساتھ اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی اور ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوانوں کے پاس آئیڈیاز، ہنر اور وژن کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت صرف ایسے پلیٹ فارمز کی ہے جہاں وہ اپنی مہارت کو دنیا کے سامنے لا سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ٹی کے شعبے میں ریفارمز، سرمایہ کاری اور جدید تربیت کے ذریعے اس سفر کو تیز کر رہی ہے تاکہ پاکستان مستقبل کی عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں مضبوط مقام حاصل کر سکے۔
تقریب میں آئی ٹی ماہرین، طلبہ، پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جنہوں نے وفاقی وزیر کے وژن کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر خطے میں نمایاں ترقی کی صلاحیت رکھتا ہے۔



