بینظیر نشوونما پروگرام کامیابی سے جاری ہے، پروگرام کو آئندہ برسوں میں مزید وسعت دی جائے گی .چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام روبینہ خالد

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بینظیر نشوونما پروگرام کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور اس پروگرام کو آئندہ برسوں میں مزید وسعت دی جائے گی،اس مثبت رفتار کو برقرار رکھا جانا چاہیے، کیونکہ آج کے بچوں کی صحت آنے والی نسلوں کے لئے اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں مقامی ہوٹل میں منعقدہ پاکستان اور تیمور لیسٹے کی حکومت کی جانب سےگلوبل ٹاسک فورس، ورلڈ فوڈ پروگرام کے زیر اہتمام غذائیت کے حوالے سے سماجی تحفظ پر مبنی تین روزہ کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2008ء میں اپنے آغاز کے بعد سے بی آئی ایس پی نے پاکستان کے سماجی تحفظ کے منظر نامے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے جس نے فلاحی سکیموں کو قومی سطح پر مربوط پروگرام کی طرف منتقل کیا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں، مستحق افراد کی رجسٹریشن اور غذائیت سے متعلق حساس اقدامات جیسے اختراعات کی بنیاد رکھی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا اقدام ہے جو ملک بھر میں ایک کروڑ خاندانوں کی مدد کرتا ہے انہوں نے بینظیر کفالت، تعلیمی وظائف، ہنرمند اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ بینظیر نشوونما پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروگرام سے 39 لاکھ ماؤں اور بچوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک کی معاونت اور صحت کی خدمات سے فائدہ پہنچا ہے جس سے بچوں کی نشوونما میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پورے خطے میں غربت میں کمی اور غذائیت سے متعلق سماجی تحفظ کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ماڈل ہے۔

اس کا بینظیر نشوونما پروگرام، 2020ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے ڈبلیو ایف پی، یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جو کہ کم عمر بچوں کی نشوونما اور نشوونما میں کمی کو روکنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے ، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر کے بچوں کو اس پروگرام میں شامل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں قائم ہیلتھ سائنس کے معروف ادارے آغا خان یونیورسٹی کے حالیہ جائزے میں نشوونما سے فائدہ اٹھانے والوں میں چھ ماہ کی عمر کے بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح میں 20 فیصد کمی پائی گئی روبینہ خالد نے کہا کہ ایک تحریری بیان میں صدر آصف علی زرداری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غذائیت کو سماجی تحفظ میں ضم کرنا ایک اہم سنگ میل رہا ہے۔ بینظیر نشوونما اقدام کے ذریعے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر کے بچوں کو پہلے ہزار دنوں کے دوران مدد ملتی ہے۔ صرف غذائی قلت کا خاتمہ ہی ایک ترقی کی بنیاد اور ذمہ داری ہے جو تمام اقوام کے مستقبل کو تشکیل دیتی ہے تقریب میں اقوام متحدہ، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، لائو پی ڈی آر، نیپال، نائجر، تیمور لیسٹے اور پاکستان کے مندوبین نے قومی سماجی تحفظ کے نظام میں غذائیت کو موثر طریقے سے مربوط کرنے کے لیے اسباق، شواہد اور اختراعات کا تبادلہ کرنے کے لیے مباحثہ کا انعقاد کیا۔جس میں سماجی تحفظ کی پالیسیوں اور پروگراموں کو غذائیت پر مرکوز بنانے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔

پاکستان میں ڈبلیو ایف پی کے نمائندے اور کنٹری ڈائریکٹر کوکو اشیاما نے کہا کہ پاکستان کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سماجی تحفظ اور غذائیت کو مربوط کرنا نہ صرف قابل عمل اور موثر ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی ہے۔ اس کے لیے مستقل فنانسنگ کی ضرورت ہے تیمور لیسٹے کے صدر ہوزے راموس ہورٹا، گلوبل ٹاسک فورس کے سربراہ، سماجی تحفظ اور شمولیت کی نائب وزیر سیو برائٹس (Ceu Brites) نے تقریب کی میزبانی کرنے اور غذائیت کے حوالے سے سماجی تحفظ کو آگے بڑھانے میں ان کی قیادت کے لیے حکومت پاکستان کی تعریف کی۔ انہوں نے حکومت فرانس کا گلوبل ٹاسک فورس کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا انہوں نے مزید کہا کہ ہم مل کر ایک ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں کوئی ماں، کوئی بچہ اور کوئی خاندان پیچھے نہ رہے۔ یہ تقریب شریک حکومتوں اور شراکت داروں کے مشترکہ عزم کی نشاندہی کرتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بچہ، عورت یا مرد بھوک یا غذائیت کی کمی کا شکار نہ ہو۔