اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے آج اسلام آباد میں پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر، ہز ایکسی لینسی یوسف شریف زادہ سے دوطرفہ ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے سفیر کو خوش آمدید کہا اور زرعی و غذائی تحفظ کے شعبے میں پاکستان–تاجکستان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات، لائیو اسٹاک اور ویلیو ایڈڈ فوڈ آئٹمز کی برآمد میں بڑی صلاحیت رکھتا ہے، اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تجارت میں اضافے سے دونوں ممالک کے فوڈ سسٹمز اور علاقائی معاشی روابط کو تقویت ملے گی ملاقات کے دوران، سفیر یوسف شریف زادہ نے پاکستان سے زرعی درآمدات میں اضافے، خصوصاً گوشت کی بڑے پیمانے پر خریداری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان سے ایک لاکھ (100,000) ٹن گوشت خریدنے کی خواہش ظاہر کی، جس کی مالیت پچاس ملین ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ بڑے پیمانے پر گوشت کی برآمد کے آغاز کے لیے جلد ایک باضابطہ معاہدہ طے کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے تاجکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پاکستان کی جانب سے تاجکستان کی غذائی و لائیو اسٹاک ضروریات میں بھرپور معاونت کی خواہش ظاہر کی۔

سفیر نے وفاقی وزیر کو 18 دسمبر سے شروع ہونے والے تاجکستان کے ثقافتی ہفتہ میں شرکت کی دعوت بھی دی، جو دونوں ممالک کے ثقافتی و عوامی روابط کی مضبوطی کی علامت ہے۔ وفاقی وزیر نے اس دعوت کا خیرمقدم کیا اور ہر سطح پر تعاون، بشمول ثقافتی اور علمی تبادلوں کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا پاکستان اور تاجکستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات زرعی ترقی، تحقیق اور تجارت کے شعبوں میں وسیع تعاون کے امکانات رکھتے ہیں۔ تاجکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں کپاس اور گندم بنیادی نقد آور فصلیں ہیں، جبکہ آلو، سبزیاں، خربوزے، خوبانیاں، ناشپاتی، آلوچے، سیب، چیری، انار، انجیر اور میوہ جات اہم فصلوں میں شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے باغبانی، تحقیق، پیسٹ مینجمنٹ اور فصلوں کی بہتری جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا ملاقات میں موجودہ تجارتی صورتحال کا جائزہ بھی لیا گیا، جس کے مطابق پاکستان چاول، مالٹا اور آم تاجکستان کو برآمد کرتا ہے، تاہم حجم اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ پاکستان سالانہ 18 لاکھ ٹن آم پیدا کرتا ہے، مگر 2024 میں تاجکستان کو صرف 0.7 میٹرک ٹن آم برآمد کیے گئے۔ اسی طرح پاکستان کی چاول کی سالانہ پیداوار 93 لاکھ ٹن ہے، لیکن 2022 میں تاجکستان کو صرف 240 میٹرک ٹن چاول برآمد کیے گئے۔ پاکستان تاجکستان سے بنیادی طور پر جننگ کیا ہوا کپاس درآمد کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارتی حجم میں اضافہ اور تکنیکی و لاجسٹک رکاوٹوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
فریقین نے زرعی تعاون کے لیے ایک مستقبل بین روڈ میپ پر بھی اتفاق کیا، جس میں تازہ پھلوں، سبزیوں، گوشت اور دوسری زرعی اشیاء کی تجارت میں اضافہ؛ تحقیق و ترقی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا؛ بین الاقوامی معیار کے مطابق زرعی پیداوار؛ پیسٹ فری پیداوار کے علاقوں کا قیام؛ اور فائیٹو سینٹری و زرعی بہترین عملی طریقوں پر اسٹیک ہولڈرز کی صلاحیت سازی جیسے عناصر شامل ہیں۔ انہوں نے سائنسی معلومات کے تبادلے اور زرعی جدت کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا ملاقات مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تاجکستان کو 100,000 ٹن گوشت کی برآمد کا متوقع معاہدہ پاکستان–تاجکستان تجارتی تعلقات کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط معاشی، ثقافتی اور زرعی روابط کے فروغ کی مشترکہ خواہش کا مظہر ہے




