نئیروبی میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کی ساتویں ماحولیاتی اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی, وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا خطاب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں منعقد ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی (UNEA-7) کے ساتویں اجلاس میں شرکت کی۔ یہ عالمی سطح کا اعلیٰ فورم “ایک مضبوط اور لچکدار کرۂ ارض کے لیے پائیدار حل کی پیش رفت” کے موضوع کے تحت منعقد ہوا، جس میں اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ سول سوسائٹی، سائنس دانوں، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اسمبلی میں عالمی ماحولیاتی پالیسیوں کی تشکیل، ترجیحات کے تعین اور بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر جامع تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں موسمیاتی لچک، موافقت، پائیدار ترقی اور سائنسی بنیادوں پر مبنی حل کے لیے عالمی تعاون اور مالی معاونت کی ضرورت پر خاص زور دیا گیا۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی عمل درآمد کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:”موسمیاتی اقدامات اب اختیار کا نہیں، بقا کا تقاضا بن چکے ہیں۔ فطرت اپنے اصولوں کے مطابق چلتی ہے؛ اگر ہم اس کے ساتھ ناانصافی کریں تو فطرت متاثر نہیں ہوتی، لیکن اس ناانصافی کی پوری قیمت ہمیں چکانی پڑتی ہے۔”انہوں نے پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کی بڑھتی ہوئی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ لچک میں اضافہ، موسمیاتی موافقت اور منصفانہ عالمی مالی معاونت وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دنیا نے متحد ہو کر فوری، مؤثر اقدامات نہ کیے تو ترقی پذیر ممالک کو مسلسل غیر متناسب انسانی، معاشی اور ماحولیاتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا وفاقی وزیر نے مؤثر عالمی حل تلاش کرنے، کثیر فریقی ماحولیاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور پائیدار مستقبل کی جانب پیش رفت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا