خوشحالی کا سرچشمہ طاقت اور رسائی نہیں بلکہ تعلیم ، ہنر اورپروڈیکٹویٹی ہے۔ وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی مصدق ملک

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیرموسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ خوشحالی کا سرچشمہ طاقت اور رسائی نہیں بلکہ تعلیم ، ہنر اورپروڈیکٹویٹی ہے،حکومتی کوششوں سے معاشی اعشاریوں میں بہتری آئی ہے, ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کواسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں’’پاکستان کی معاشی سمت کی ازسرنو تشکیل‘‘کے موضوع پر پاکستان پالیسی ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل کے زیرِ اہتمام پاکستان پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ سطحی حکومتی و ماہرین نے شرکت کی۔

پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ملک میں معاشی بحالی میں پالیسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستا ن میں خوشحالی کا راستہ صرف طاقت اوراثرو رسوخ تک رسائی بن چکا ہے،خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے، خوشحالی کا سرچشمہ طاقت اور رسائی نہیں بلکہ تعلیم ، ہنر اورپروڈیکٹویٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی پائیدار ترقی ہے، نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں ، مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ریاست کو کاروبار چلانے کی بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہے ،ترقی تب آئے گی جب ہر شہری کو کام کےلئے یکسا ں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کوششوں سے معاشی اعشاریوں میں بہتری آئی ہے،ملکی معیشت میں نجی شعبے کا کردار اہم ہے، ٹیلنٹ اورقابلیت کی بنیاد پر لوگوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔