University of Lahore student suicide case allegedly settled between police and university administration, everyone given a clean chit. capitanewspoint.com

یونیورسٹی آف لاہور طالبہ کی خودکشی کا معاملہ پولیس ، یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان مبینہ طور پر معاملات طے سب کو کلین چٹ

لاہور (بیورو رپورٹ )صوبائی دارالحکومت لاہور میں یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ کی خودکشی کے معاملہ یونیورسٹی آف لاہور میں 21 سالہ فاطمہ کا اقدام خودکشی پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان مبینہ طور پر معاملات طے تحقیقات میں پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ سمیت سب کو کلین چٹ دے دی کسی کو ملزم نہ ٹھہرایا معاملات گول جبکہ ہسپتال میں طالبہ کی حالت بہتر ہونے لگی ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف لاہور میں چند روز قبل 21 سالہ فاطمہ نے بلڈنگ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی تھی .

جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے ہسپتال پہنچا دیا جہاں پر اب ڈاکٹروں کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والی 21 سالہ فاطمہ کی زندگی بچ گئی ہے اور اب وہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے میڈیکل بورڈ کے مطابق مریضہ کی حالت پہلے سے کافی بہتر ہے بتایا گیا ہے ڈاکٹروں کے مطابق پیر کی صبح طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کا آپریشن کا بھی امکان ہے چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے دو روز سے بغیر وینٹیلیٹر کے مریضہ سانس لے رہی ہے میڈیکل بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ مخصوص طبی حالات میں فاطمہ نے اپنے اہل خانہ سے گفتگو بھی کی ہے اس کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے یاد رہے کہ یونیورسٹی میں خودکشی کی کوشش کرنے والی اس 21 سالہ طالبہ کہ معاملے میں پولیس نے ایک نوجوان کو حراست میں لیا تھا جس کے بارے میں ابھی تک پولیس نے آگاہ نہیں کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور یونیورسٹی آف لاہور انتظامیہ کے مابین مبینہ طور پر معاملات طے ہو چکے ہیں جس کے بعد پولیس خودکشی کے معاملے میں فاطمہ کے ورثا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی مصروف ہے.

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاطمہ کے ورثا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے یاد رہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں چند روز قبل بھی ایک نوجوان نے خودکشی کر لی تھی جس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی سامنے نہ آئی تا ہم انتظامیہ یونیورسٹی معاملے کو دبانے کے چکر میں تھی کہ یونیورسٹی کے اسی ڈیپارٹمنٹ میں ایک اور واقعہ پیش آگیا جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ معاملے کو مسلسل دبانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے جس کے بعد یونیورسٹی بھی بند کر کے کلاسیں آن لائن کر دی تھیں تاکہ طلبہ معاملے کو ہوا نہ دے سکیں ایک پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور انتظامیہ اور متعلقہ پولیس کے درمیان معاملے کو ختم کرنے کے لیے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے طلباء نے خودکشی کی کوشش کے معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا تھا لیکن اس کے باوجود حکومت پنجاب کی جانب سے کاروائی کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں ائی صوبائی وزیر تعلیم بھی معاملے پر خاموش بیٹھے ہیں .

پولیس ذرائع کے مطابق اقدام خودکشی کے معاملے میں پولیس نے اپنی رپورٹ مکمل تیار کرلی ہے، جسے اعلیٰ حکام کو بھیجا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ میں پولیس نے کسی کو بھی واقعے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں لڑکی، لڑکے اور نہ ہی یونیورسٹی انتظامیہ کو ذمہ ٹھہرایا گیا  ہے بلکہ رپورٹ میں یونیورسٹی انتظامیہ کو عمارت کی خاص جگہوں پر شیشے اور جالیاں لگانے کا کہا گیا ہے ۔پولیس کے مطابق رپورٹ آج کسی بھی وقت اعلیٰ افسران کو بھجوا دی جائے گی اس حوالے سے جب کیپیٹل نیوز پوائنٹ نے پولیس اور یونیورسٹی آف لاہور انتطامیہ سے ان کا موقف جاننے کے لیئے رابطہ کیا پر فون اٹینڈ نہ ہوا .