اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )امیر سیاسی جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد کے عوام کو ان کے جمہوری حق سے محروم رکھنے کے لیے سازش کر رہی ہے اور بلدیاتی انتخابات کو دانستہ طور پر مؤخر کیا جا رہا ہے۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں اپنی یقینی شکست نظر آ رہی ہے، اسی لیے انتخابات ملتوی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا التوا عوام اور اسلام آباد سے دشمنی کے مترادف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک ہی بیوروکریٹ اسلام آباد کے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے، جبکہ عوام تعلیم، صحت، سیوریج، پینے کے صاف پانی، ٹریفک اور بجلی جیسے بنیادی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی 50 فیصد آبادی کو بنیادی سہولیات سرے سے دستیاب ہی نہیں۔ امیر سیاسی جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں رہنے والے عوام بھی سہولیات سے محروم ہیں، حالانکہ شہر سے سالانہ 1200 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئینی طور پر صوبے کی حیثیت رکھنے کے باوجود اسلام آباد کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ کیوں نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے سی ڈی اے کو ’’کرپشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم قانوناً ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات ملتوی کیے گئے تو سمجھا جائے گا کہ الیکشن کمیشن بھی اس سازش کا حصہ ہے۔نصراللہ رندھاوا نے خبردار کیا کہ اگر بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوئے تو سیاسی جماعت اسلامی ہر سطح پر بھرپور احتجاج کرے گی۔




