اسلام آباد (کرائم رپورٹر )اسلام آباد میں چار کروڑ روپے مالیت کا مکان مبینہ طور پر جعلی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این ڈی سی) پر ٹرانسفر کروانے کے معاملے میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ و بحالیات انوار الحق کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر نمبر AAB/1/6/2026/45 ملک محمد کاشف کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق درخواست گزار نے سیکٹر آئی-10/4 میں واقع چار کروڑ روپے مالیت کا مکان خریدا اور سی ڈی اے کی ون ونڈو سروس کے ذریعے اس کی ٹرانسفر کروائی ، مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر انوار الحق نے مبینہ طور پر جعلی این ڈی سی جاری کی، جبکہ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ مکان قانونی طور پر ٹرانسفر ایبل ہی نہیں تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق این ڈی سی لاکھوں روپے کی مبینہ لین دین کے بعد جاری کی گئی۔
درخواست گزار کا الزام ہے کہ رقم وصول کرنے کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر نے مکان کی ٹرانسفر منسوخ کروا دی، جس کے نتیجے میں سائل کے چار کروڑ روپے ہڑپ کر لیے گئے ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر پر رشوت لینے کے سنگین الزامات بھی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کاروباری برادری ماضی میں چیئرمین سی ڈی اے کو براہ راست شکایات کرتی رہی ہے، تاہم تاحال ان کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




