مصنوعی ذہانت قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے.سردار طاہر محمود

اسلام آباد(کامرس رپورٹر)مصنوعی ذہانت اب محض ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک قومی ترجیح ہے جو آنے والی دہائیوں میں پاکستان کی معاشی مسابقت، ڈیجیٹل خودمختاری اور سماجی ترقی کا تعین کرے گی۔ یہ بات اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے ہفتہ کویہاں ایس ایم منیر آڈیٹوریم میں پاکستان اے آئی سمٹ۔ 2025 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا اہتمام سی ایکسو گلوبل فورم کے تعاون سے کیا گیاتھا۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین، پینلسٹس اور شرکاء کی اعلیٰ سطحی بات چیت پاکستان کی علاقائی اور عالمی ٹیکنالوجی لیڈر کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت بارے اجتماعی یقین کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے تیار کرنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے،قومی ڈیجیٹل ترقی کے لیے آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئےسردار طاہر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ چیمبر جدت طرازی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور صنعت، حکومت اور سماجی شعبوں میں تیز رفتار مصنوعی ذہانت اپنانے کو فروغ دیتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی سربراہی اجلاس کی بصیرت کو قابل عمل حکمت عملیوں اور قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے پالیسی سازوں، نجی شعبے کے رہنماؤں، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اے آئی سمٹ 2025 میں انفراسٹرکچر اور قومی خودمختاری، ڈیٹا اور کلاؤڈ فریم ورک، گورننس اور ریگولیشن ، بزنس ٹرانسفارمیشن اور فنانشل ٹیکنالوجیز، اے آئی فار سوشل گڈ سمیت اہم شعبوں بارے سیر حاصل بحث کی گئی اور ماہرین میں دیگر کے علاوہ عامر شہزاد (ڈی جی پی ٹی اے)، عامر انظر (سی ایم او پی ایس ای بی)، عمر اخلاق (یو این ڈی پی پاکستان)، علی وقاص (زونگ)، حسیب شیخ (ایس ای سی پی) اور ڈاکٹر مومنہ معتصم (نسٹ) شامل تھے۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے ڈاکٹر محمد عثمان، کنوینر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کمیٹی اور اعزاز محمد، کنوینر ٹیلی کام اینڈ کمپیوٹر ہارڈویئر کمیٹی کی کاوشوں کو بھی سراہا کہ جنہوں نے سمٹ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر سردار طاہر محمود نے کہا کہ اس طرح کے باہمی تعاون کے پلیٹ فارمز پاکستان کو ابھرتی ہوئی اے آئی سے چلنے والی معیشتوں میں شامل کرنے، جدت طرازی کے کلچر کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں کامیابی کے لیے درکار ڈیجیٹل صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔