اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے ایتھوپین سفارت خانے کی جانب سے اسلام آباد میں منعقدہ شجرکاری مہم میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ یہ مہم “تجدید بذریعہ شجرکاری” کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی، جس کی قیادت وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا کے خصوصی ایلچی اور سفیر غیر معمولی و مختارِ کامل، معزز جمل بیکر عبداللہ نے کی۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں پودے لگائے جائیں گے جو ایتھوپیا کے 700 ملین درخت لگانے کے ہدف میں تعاون فراہم کریں گے، جس کا مقصد ماحولیاتی نظام کی بحالی اور کاربن اخراج میں کمی ہے معزز سفیر جمل بیکر عبداللہ نے اجلاس میں ایتھوپیا کے معروف ’’گرین لیگیسی انیشی ایٹو‘‘ سے آگاہ کیا، جو ماحولیاتی توازن کی بحالی، کاربن کے اخراج میں کمی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اپنی جدوجہد میں اکیلا نہیں ہوگا اور انہوں نے وفاقی وزیر کو ایتھوپیا میں رواں سال ستمبر میں منعقد ہونے والے افریقہ کلائمٹ سمٹ میں شرکت کی دعوت دی۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد دراصل انصاف کا معاملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماحولیاتی بگاڑ نہ صرف قدرت بلکہ انسانیت کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور درست اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک ایسے نکتے تک پہنچ سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ انہوں نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماحولیاتی تباہی آئندہ نسلوں کو ان کی سادہ خوشیوں سے محروم کر رہی ہے، جہاں بچے جگنو دیکھنے یا تاروں سے بھرا آسمان گننے کے قابل نہیں رہیں گے وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اگست میں ایک وسیع البنیاد قومی شجرکاری مہم شروع کرے گی، جس میں عوام کو مفت پودے فراہم کیے جائیں گے تاکہ بڑے پیمانے پر شمولیت اور ماحولیاتی بحالی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے ایتھوپیا کی سبز پالیسیوں پر مبنی کامیابی کو ایک مثبت مثال قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس تجربے سے قیمتی سبق حاصل کر سکتا ہے۔
دونوں فریقین نے ماحول کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ عملی اقدامات ہی آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں.