اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی کابینہ نے باضابطہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی 2025 کی منظوری دے دی ہے، جو پاکستانے کے لیے ایک تاریخی قومی روڈمیپ ہے یہ پالیسی اخلاقی، جامع اور اختراعی AI اپنانے کے ذریعے ملک کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ چھ کلیدی ستونوں پر مبنی ایک مستقبل شناس فریم ورک فراہم کرتی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری سے ترقی دی جا سکے اور اسے سماجی و معاشی ترقی، ڈیجیٹل خودمختاری، اور عالمی مسابقت کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال میں لایا جا سکے۔
پالیسی کا پہلا ستون ایک مضبوط AI انوویشن ایکوسسٹم کے قیام پر مرکوز ہے، جس کے تحت نیشنل AI فنڈ (NAIF) کا قیام، سات بڑے شہروں میں مصنوعی ذہانت کے مراکزِ فضیلت (Centres of Excellence) اور تحقیق، ترقی و تجارتی کاری کے لیے فنڈز شامل ہیں۔ دوسرا ستون، “آگاہی اور تیاری”، انسانی وسائل کی بڑے پیمانے پر ترقی پر توجہ دیتا ہے، جس میں سالانہ 200,000 افراد کی تربیت، 3,000 اسکالرشپس، 20,000 ادا شدہ انٹرن شپس، اور کمزور طبقات سمیت پورے معاشرے میں AI خواندگی کو فروغ دینا شامل ہے۔
تیسرا ستون ایک محفوظ AI ایکوسسٹم کی تشکیل پر مشتمل ہے، جس میں ریگولیٹری سینڈ باکسز، سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز، اور شفافیت کے فریم ورک شامل ہیں تاکہ اخلاقی AI استعمال، ڈیٹا تحفظ، اور عوامی اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔ چوتھا ستون “تبدیلی و ارتقاء” ہے، جو تعلیم، صحت، زراعت، اور حکمرانی جیسے کلیدی شعبوں میں AI کے عملی اطلاق کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے، اس مقصد کے لیے شعبہ جاتی روڈمیپس، ملازمین کی مہارت میں بہتری اور کارکردگی جانچنے کے نظام متعارف کروائے جائیں گے۔
پانچواں ستون AI انفراسٹرکچر کی تعمیر سے متعلق ہے، جس میں قومی کمپیوٹ گرڈ، مرکزی ڈیٹاسیٹس، AI ہبز، اور کلاؤڈ بیسڈ وسائل کی فراہمی شامل ہے تاکہ بڑے پیمانے پر اختراع کو ممکن بنایا جا سکے۔ چھٹا ستون بین الاقوامی شراکت داری اور تعاون کو فروغ دیتا ہے، جس کے تحت مشترکہ تحقیق، سرحد پار منصوبے، اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی کے اقدامات شامل ہیں۔
یہ تمام ستون پاکستان کے اس قومی عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک ایک ایسا مستقبل تشکیل دے جس میں AI نہ صرف محفوظ اور منصفانہ ہو بلکہ عالمی سطح پر مربوط اور قابلِ فخر بھی ہو۔ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کی منظوری پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک انقلابی موڑ ہے، جو ملک کو مساوات، اختراع اور اقتصادی خودمختاری کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ میں تمام پاکستانیوں، خاص طور پر نوجوانوں کو دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتی ہوں — کابینہ نے قومی مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی کی منظوری دے دی ہے یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ ایک ڈیجیٹل انقلاب ہے جو پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور خودمختاری کی راہ پر گامزن کرے گا وزیراعظم پاکستان، وفاقی کابینہ، اور Whole of Government اپروچ کی قیادت کا شکریہ جنہوں نے اس خواب کو حقیقت بنایا افواجِ پاکستان، SIFC اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں یہ صرف ایک پالیسی نہیں — بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد ہے.