’کیفے‘ سمیت دیگر جعلی سگریٹ تیار کر نےوالی فیکٹری سیل بھمبھرمیں نیشنل ٹوبیکو کمپنی کی فیکٹری پرچھاپہ منیجر اور کلرک رنگے ہاتھوں گرفتار “کیفے”یونیورسل ٹوبیکومردان میں رجسٹر لیکن نیشنل ٹوبیکو بھمبر میں تیار کیا جا رہا تھا

بھمبھر(سی این پی) سگریٹ نوشی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور اگرسگریٹ ہو بھی جعلی تو یہ کتنا زیادہ نقصان دہ ہے -یہ آسانی سے تصور کیا جا سکتا ہے -بھمبھر پولیس اور انتظامیہ نے نیشنل ٹوبیکو کمپنی کی ایک فیکٹری کو سیل کر دیا ہے جو موہڑہ سدھا کے علاقے میں ’کیفے‘ سگریٹ سمیت دیگر جعلی اور غیر منظور شدہ سگریٹ تیار کر رہی تھی۔ “کیفے” سگریٹ مردان میں قائم یونیورسل ٹوبیکو کمپنی میں رجسٹرڈ ہے لیکن اس کا سگریٹ نیشنل ٹوبیکو کمپنی بھمبر میں تیار کیا جا رہا تھا۔منیجر نے بتایا کہ کمپنی کا مالک سراج محمد ہے جبکہ اصل میں اس کے مالک کا نام وسیم الرحمان ہے۔منیجر اور کلرک کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے سراج محمد، اس کے ڈائریکٹر محمد اللہ خان، منیجر لیاقت خان اور کلرک نوید نثار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔آزاد کشمیر میں سگریٹ فیکٹریوں کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں خاص طور پر میر پور ڈویژن میں مسلسل شکایات ہیں کہ کچھ فیکٹریوں میں جعلی اور غیر منظور شدہ برانڈز کے سگریٹ بنائے جا رہے ہیں جس سے عوام کی صحت اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے۔ ان لینڈ ریونیو کے کچھ اہلکار کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں کیونکہ اس محکمے نے اب تک کسی فیکٹری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ بھمبر میں پولیس اور انتظامیہ نے چھاپہ مارا لیکن ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے نہیں۔بھمبر پولیس نے رات گئے فیکٹری پر اس وقت چھاپہ مارا جب منیجر لیاقت خان اور کلرک نوید نثار جعلی اور غیر منظور شدہ برانڈز کی تیاری میں مصروف تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ارشد جرال اور ایس ایس پی ذوالقرنین سرفراز بھی موجود تھے۔ ضبط کیے گئے مواد میں ’کیفے‘ سگریٹ کی بڑی تعداد ’مارشل‘، ’گولڈ کپ‘، ’ٹارگٹ‘، ’ہونڈا‘ اور دیگر پیکٹ اور مواد شامل ہے۔ منیجر لیاقت نے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے لیاقت اور نوید کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مالک اور ڈائریکٹر کی تلاش جاری ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فیکٹری میں بجلی چوری بھی جاری تھی۔ ایس ایس پی ذوالقرنین نے کہا ہے کہ تفتیش مکمل کی جائے گی اور نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسسٹنٹ کلکٹر حیدر آباد نے ایک ٹرک کو اپنی تحویل میں لیا تھا جو جعلی سگریٹ کے پیکٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ سگریٹ اسی نیشنل ٹوبیکو کمپنی میں تیار کیے گئے تھے جسے اب سیل کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد ہی چیف سیکرٹری آزاد کشمیر نے نوٹس لیا اور میر پور انتظامیہ کو حرکت میں لاتے ہوئے بھمبر انتظامیہ کو کارروائی کی ہدایت کی۔آزاد کشمیر میں سگریٹ کمپنیوں اور دیگر صنعتوں کو ٹیکس میں چھوٹ ہے۔ آزاد کشمیر خصوصاً میر پور ڈویژن میں بہت سی فیکٹریاں سگریٹ تیار کر رہی ہیں۔ حکام عوام کی صحت اور سرکاری خزانے کو بچانے میں مخلص ہیں تو ان کو تمام فیکٹریوں کی چھان بین کرنی چاہیے ۔