کاروں کے ریٹ زیادہ، کوالٹی میں کمی، رواں مالی سال میں اب تک فروخت میں54 فیصد کمی ریکارڈ

ملک میں مختلف برانڈ کی کاروں کی فروخت میں ر یٹ زیادہ ، کو الٹی میں کمی کے باعث رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر 54 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ۔پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے دعوی کیا ہے کہ جولائی سے اپریل تک کی مدت میں ملک میں 88620 یونٹس مسافر کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 54 فیصد کم ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 191238 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی،اپریل میں 2844 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو مارچ کے مقابلہ میں 61 فیصد کم اور گزشتہ سال اپریل کے مقابلہ میں 95 فیصد کم ہے۔مارچ 2023 میں ملک میں 7201 یونٹس اور گزشتہ سال اپریل میں 18626 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں 1300 سی سی اور اس سے زیادہ پاور کی 41497 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 51 فیصد کم ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1000 سی سی اور ا س سے زیادہ پاور کی 84396 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی، اسی طرح اسی مدت میں 1000 سی سی پاور کی 11531یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 70 فیصد کم ہے۔اعدادوشمار کےمطابق جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں 1000 سی سی سے کم پاور کی 35592 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کےمقابلہ میں 48 فیصد کم ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 800 سی سی سے کم پاور کے 68678 یونٹس کاروں کی فروخت ریکارڈکی گئی تھی۔ دوسری جانب مذکورہ کمپنیوں نے د عوی کیا ہے کہ ملک میں تیار کی جانے والی مختلف برانڈ کی ٹیو ٹا، ہنڈا، سوزوکی ، کاروں کا ریٹ ڈالر کے ریٹ ذیادہ ہو نے کی وجہ سے زیادہ ہو گیا لیکن مذکورہ بالا کار بنا نے والی کمپنوں جن میں ٹیو ٹا، ہنڈا، سوزوکی کاروں کے ، مبینہ طور پر میٹریل اس قدر ناقص ہیں کہ کسی حاد ثہ کی صورت میں گاڑی تباہ ہو نے کے ساتھ ان کے ایئر بیگ بھی نہیں کھولتے، بڑی وجہ سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر شہری غیر ملکی گاڑیاں، خریدنے لگے ہیں ۔