فلائی جناح ایئر لائن کی کوئٹہ سے اسلام آباد پرواز میں خوفناک واقعہ کا انکشاف .صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد رؤف عطاء

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )فلائی جناح ایئر لائن کی کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والی پرواز میں پیر کے روز ایک نہایت تشویشناک اور خطرناک واقع کا انکشاف ہوا ہے، کہ فلائی جناح ایئر لائن انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے یہ انکشاف صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں محمد رؤف عطا ایک تحریری بیان میں کیا ان کا کہنا تھا کہ فلائی جناح ایئر لائن نہ صرف درجنوں مسافروں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں، بلکہ فلائی جناح کی تیاری اور حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ

، مذکورہ پرواز کو دوپہر 1:20 بجے روانہ ہونا تھا، تاہم یہ بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وضاحت کے دو گھنٹے تاخیر کا شکار رہی۔ اس تمام وقت کے دوران بچوں، خواتین، بزرگوں اور دیگر مسافروں کو طیارے کے اندر محصور رکھا گیا۔ جہاز کے عملے اور زمینی عملے کی جانب سے تاخیر کی کوئی وجہ بتانے کی زحمت نہ کی گئی، جس کے باعث مسافر شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار رہے۔مسافروں کے مطابق، دو گھنٹے بعد جب طیارہ بالآخر رن وے کی جانب بڑھا اور ٹیک آف کے لیے تیز رفتاری سے دوڑنے لگا، تو اچانک پائلٹس نے پرواز کو منسوخ کر دیا۔ طیارہ ایک جھٹکے سے رک گیا اور لمحاتی طور پر بے قابو ہوتا محسوس ہوا، جس کے نتیجے میں طیارے میں موجود تمام افراد خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔ایک مسافر خوف کی شدت سے بے ہوش ہو گیا. انھوں نے کہا کہ

طیارے میں موجود ایک خاتون ڈاکٹر نے فوری طبی امداد فراہم کی۔ طیارے کو بمشکل قابو میں لایا گیا، اور خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم یہ واقعہ ایک بڑے سانحے کا پیش آسکتا تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فلائی جناح کی لاپرواہی اور ناقص تیاری نے درجنوں افراد کی جانوں کو غیر ضروری خطرے میں ڈالا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد متعدد مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزارت ہوا بازی، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔متاثرہ مسافروں کا مطالبہ ہے کہ جب تک اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں، فلائی جناح کی اس روٹ پر تمام پروازوں کو معطل کر کے گراؤنڈ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ-اسلام آباد روٹ پر دیگر ایئرلائنز کی پروازیں بحال کی جائیں اور نئی پروازیں متعارف کرائی جائیں تاکہ مسافروں کی حفاظت اور سہولت یقینی بنائی جا سکے۔اس واقعے نے ایک بار پھر ملک میں ایوی ایشن کے حفاظتی معیارات اور مسافر خدمات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ متعلقہ ادارے کس حد تک سنجیدگی سے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہیں۔