سٹیٹ بینک نے 2025ء کے لیے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کا تعین کردیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)بینک دولت پاکستان نے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں (ڈی-ایس آئی بی) کے فریم ورک کے تحت 2025ء کے لیے بینکوں کے تعین کا اعلان کر دیا ہے، نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور حبیب بینک لمیٹڈ کو نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینک برائے 2025ء متعین کیا گیا ہے.

مذکورہ فریم ورک اپریل 2018ء میں متعارف کرایا گیا اور اس میں دسمبر 2022ء میں ترمیم کی گئی تھی۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جمعہ کویہاں جاری بیان کے مطابق سٹیٹ بینک کا متعارف کردہ فریم ورک عالمی معیارات کے مطابق ہے اور اس میں مالی شعبے اور معیشت کی مقامی حرکیات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔

اس میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت اور تعین کا طریقہ کار، ضابطہ کاری اور نگرانی کے بہتر تقاضوں اور عمل درآمد کے لیے رہنما ہدایات طے کی گئی ہیں۔ ان بہتر تقاضوں کا مقصد نظام کے لحاظ سے اہم بینکوں کی دھچکوں کے خلاف لچک کو مزید مضبوط کرنا اور ان کی انتظام خطر کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت سالانہ بنیاد پر دو مراحل میں ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے میں مقداری اور معیاری پیمانوں پر ہر سال نمونے کے بینکوں کو شناخت کیا جاتا ہے۔دوسرے مرحلے میں نمونے کے ان بینکوں میں سے ان اداروں کے حجم، باہمی رابطہ کاری، تبادلہ پذیری اور پیچیدگی کو مدنظر رکھ کر نظامی سکور معلوم کر کے نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کا تعین کیا جاتا ہے۔

نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کے فریم ورک کے تحت سٹیٹ بینک نے بینکوں کے 31 دسمبر 2024ء تک کے مالی امور کی بنیاد پر سالانہ جانچ کی ہے۔ جانچ کے مطابق تین بینکوں، نیشنل بینک آف پاکستان، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور حبیب بینک لمیٹڈ کو نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینک برائے 2025ء متعین کیا گیا ہے۔ یہ بینک ڈی -ایس آئی بی فریم ورک میں متعین کردہ نگرانی کی اضافی شرائط پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایکویٹی کی مشترکہ سطح اول کے تقاضے پورے کرنے کے پابند ہوں گے جس کا اطلاق 31 مارچ 2026ء سے ہوگا۔علاوہ ازیں پاکستان میں کام کرنے والے ’نظام کے لحاظ سے اہم عالمی بینک ملک میں اپنے بہ وزن خطرہ اثاثوں پر اضافی سی ای ٹی-ون سرمایہ اس شرح پر رکھیں گے جو فنانشل سٹیبلٹی بورڈ نے ان کے متعلقہ پرنسپل جی –

ایس آئی بی کے لیے مقرر کیا ہے۔ترجمان سٹیٹ بینک نے معیشت کی پائیدار نمو میں معاونت اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈی-ایس آئی بی کا تعین نگرانی کے فریم ورک کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے اور اس سے سٹیٹ بینک کی نظامی خطرات کی شناخت اور ان کے تدارک کے حوالے سے فعالیت کی عکاسی ہو رہی ہے۔