اسلام آبا د (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کو مچھلی اور مچھلی سے متعلق مصنوعات کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے مزید چار سال کی اجازت مل گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی سمندری خوراک کے اعلیٰ معیار کا عالمی سطح پر اعتراف ہے اور اس سے اس شعبے میں طویل مدتی استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ توسیع پاکستان کی عالمی سمندری خوراک مارکیٹ میں پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ دنیا کا سب سے بڑا سمندری خوراک درآمد کرنے والا ملک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے پاکستان کی تمام فشریز کو، جو امریکی فہرست (List of Foreign Fisheries) میں شامل تھیں، “ہم پلہ” (Comparable) قرار دیا ہے۔ یہ درجہ بندی میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ (MMPA) کے تحت کی گئی ہے، جس کے تحت یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستانی فشریز سمندری ممالیہ جانوروں کو غیر ارادی ہلاکت یا سنگین نقصان سے بچانے کے لیے امریکی معیار پر پورا اترتی ہیں۔
محمد جنید چوہدری نے کہا کہ MMPA کے تحت فشریز کو سمندری ممالیہ کے بچاؤ، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے طریقے اپنانا لازم ہوتا ہے۔ یہ تمام اقدامات سمندری ماحولیاتی نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ اس وقت عالمی منڈی میں پاکستانی سمندری خوراک کی قیمت اوسطاً 2 امریکی ڈالر فی کلو ہے، اور اس بین الاقوامی منظوری کے بعد یہ قیمت بڑھنے کا امکان ہے، جس سے یورپ اور خلیجی ممالک میں بھی نئی منڈیاں کھلنے کی راہ ہموار ہوگی۔
مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان نے 2 لاکھ 42 ہزار 484 میٹرک ٹن مچھلی اور متعلقہ مصنوعات برآمد کیں، جن کی مالیت 489.2 ملین امریکی ڈالر تھی۔ اگلے سال اگر یہی مقدار برآمد کی گئی تو اس سے تقریباً 600 ملین امریکی ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔
جنید چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ NOAA کو مکمل تکنیکی اور قانونی تفصیلات پر مشتمل ڈوزیئر جمع کرانا پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے، جس سے ہماری فشریز کے ریگولیشن، پائیداری اور ماحولیاتی ہم آہنگی پر مبنی کوششوں کا اعتراف ہوا ہے۔
آخر میں انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ یہ منظوری ایک اہم کامیابی ہے، لیکن NOAA کی سفارشات کے مطابق پاکستان کو سمندری ممالیہ جانوروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ سمندری حیاتیاتی تنوع کا طویل مدتی تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔