راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے دریا کی زمین پر قبضہ کر کے کروڑوں روپے کے پلاٹ فروخت کرنے کا انکشاف کیاہے۔ یہ انکشاف آر ڈی اے انسپکٹر کو کئی سال گزرنے کے بعد 30 جولائی 2025کو اس وقت ہوا جب وہ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جیپ نمبر آر آئی ٹی 3380 پر سوار ہوکر بحریہ ٹاؤن فیز8 کے دورے پر جا رہے تھے جبکہ دوسری جانب بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے کروڑوں روپے کے پلاٹ فروخت کر کے رقم بھی منی لانڈنگ کے ذریعے مبینہ طور پر دبئی شفٹ کر لی ہے ۔دلچسپ بات یہ کہ آرڈی اے افسران انہی لوگوں سے ماضی میں لاکھوں روپے کرپشن کی مد میں وصول کرچکے ہیں اب جبکہ ان کے گلے میں آن پڑی ہے تو پولیس کے پاس انصاف کیلئے پہنچ گئے ۔
اور تھانہ روات میں واقعے کا مقدمہ بھی درج کر ادیا گیا ہے ۔ایف آئی آر میں عمران حسین جعفری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان علی ریاض چیف ایگزیکٹو آفیسر، محمد الیاس ڈپٹی چیف ایگزیکٹو میسرز بحریہ ٹاؤن، انجینئر محمد سلیم چوہدری ، محمد جمیل جنرل منیجر سی آر کسٹم سپورٹس پلاننگ اینڈ ڈیزائن آفس بحریہ کمپلیکس فیس 8 موضع گلی تحصیل و ضلع راولپنڈی نے بتایا کہ وہ معمول کے مطابق بحریہ فیز 8 جا رہے تھے کہ انہیںپتہ چلا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ جن میں علی ریاض ملک کی ایماء پر دریائے سواں پر قبضہ کر کے غیر قانونی پلاٹنگ کر کے اربوں روپے زمین و پلاٹ فروخت کر کے کمائے ہیں، جبکہ دوسری جانب دریائے سواں کا قدرتی نالہ پر تجاوزات بھی کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی پلاٹنگ اشتہار بازی کے خلاف جاری نوٹس کیے گئے لیکن عمل درآمد نہ ہوا لہذا ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی جائے۔
اسی حوالے سے جب کیپٹل نیوز پوائنٹ نے متعلقہ اداروں اور پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کر کے حقائق جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے واقعے کی تصدیق کر تے ہوئے بتایا ہے کہ جب سے یہ سوسائٹی بنی ہے اس وقت سے لے کر اب تک آرڈی اے میں جوبھی افسران،اہلکار ان جگہوں پر ڈیوٹی دے چکے ہیں سب کیخلاف باقاعدہ طور پر تحقیقات کی جائے گی اور جو افسران و اہلکار ملوث ہیں ان کے کیسز بنا کر باقاعدہ نیب کو بجھوائے جائیں گے تاکہ نیب ان سے رقوم کی ریکوری کی جاسکے ،ذرائع نے بتایا کہ جب سے بحریہ ٹاؤن فیز 8 بننا شروع ہوا اس وقت کے ڈپٹی کمشنر،کمشنرسمیت دیگر افسران کو بھی شامل تفتیش کرکے تحقیقات کی جائیں گی۔اس حوالے سے کیپٹل نیوز پوائنٹ نے بھی اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کا آغاز کر دیا ہے اس سلسلے میں جلد آرڈی اے ،بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے قسط نمبر 2 میں مزید انکشافات کیے جائیں گے ۔