ایم پی اے چوہدری نعیم اعجاز کے گھر سی سی ڈی کا چھاپہ، پانچ کروڑ روپے کی نقدی اور تین ملازم ساتھ لے گئے مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست

راولپنڈی (سپیشل رپورٹر )مسلم لیگ ن پنجاب کے پارلیمانی سیکرٹری پروفیشنل ڈیویلپمنٹ بلیو ورڈ سٹی کے مالک چوہدری نعیم اعجاز کے گھر پر سی سی ڈی کا چھاپہ گھر سے پانچ کروڑ روپے مالیت کی نقدی تین ملازم کو حراست میں لے کر چلے گئے آر پی او راولپنڈی کو درخواست دیتے ہوئے بلیو ورڈ سٹی کے مالک ایم پی اے اور پنجاب کے پارلیمانی سیکرٹری پروفیشنل ڈیویلپمنٹ چوہدری نعیم اعجاز نے موقف اختیار کیا کہ سات اگست کو بوقت سات بج کر 55 منٹ پر ایلیٹ فورس کے ملازم کے ہمراہ 20 سادہ کپڑوں میں ملبوس ملازمین مسلح آتشی اسلحہ ڈنڈے سوٹے اٹھائے ہوئے مدعی کے ذاتی گھر اور فارم ہاؤس میں داخل ہو گئے اور کہا کہ ہمیں ہماری میڈم ایس پی بینش فاطمہ کا حکم ہے کہ چوہدری نعیم اعجاز کے گھر داخل ہو کر تلاشی لے کر جو بھی ملے اٹھا کر لے آؤ تمام افراد کو ایس ایچ او سی ٹی ڈی محسن شاہ لیڈ کر رہا تھا اور تمام ہدایات دے رہا تھا .

اس کے بعد تمام درجہ بالا افراد زبردستی سائل کے بیڈ روم میں داخل ہو گئے اور لاکر وغیرہ توڑ کر اندر سے نقدی مالیت پانچ کروڑ روپے پڑی تھی جو ملازم تھیلے نما چیز میں ڈال کر لے گئے اور اسی طرح باقی تمام کمروں کے تالے توڑ ڈالے سائل کی والدہ جن کی عمر 70 سال اور خاندان کے دیگر خواتین اور بچوں کو ڈرایا دھمکایا اور زبردستی تمام کمروں میں گھس کر تلاشیاں لیتے رہے اور توڑ پھوڑ کی پورے خاندان اور ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پا مال کرتے ہوئے گھر میں موجود ملازم نقاش، احمد ،طیب، شفقت ،قادر ، کے ساتھ مار پیٹ کی اور انہیں زود و کوب کیا .

یہ تمام کاروائی ایس پی سی سی ڈی بینش فاطمہ کی ایما پر ایس ایچ او محسن شاہ نے اپنے دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر کی کیونکہ بینش فاطمہ کی ایما پر ایس ایچ او محسن شاہ نے اپنے دیگر نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر کر لی میڈم بینش فاطمہ سابقہ پی ٹی آئی کے دور میں اے ایس پی سول لائن تعینات تھیں اور کسی پرانی رنجش کی بنا پر سائل کی سیاسی کاروباری مخالفین کی آلہ کار بن گئی سیاسی شہرت کو نقصان پہنچا رہی ہے انتہائی جانبدارانہ اور تاسبانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور جاتے ہوئے تمام اہل کاروں نے سائل کے تین ملازم شفقت، شریف ولد محمد شریف، قادر ولد احمد خان اور متی ، کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے چونکہ گھر میں کیمرے لگے ہوئے ہیں.

جس کی تمام تر فٹیج موجود ہے مذکورہ بالا ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے مدعی کو انصاف دلایا جائے درخواست پر راولپنڈی پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال سی سی ڈی نے کوئی مقدمہ بھی درج نہیں کیا جبکہ دوسری جانب بلیو ورڈ سٹی کے مالک چوہدری نعیم کا کہنا ہے کہ ایس پی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف پانچ کروڑ نقدی گھر میں گھسنے مار پیٹ کرنے پر مقدمہ درج کیا جائے.جبکہ دوسری جانب بلیو ورلڈ سٹی پاکستان کی بڑی سوسائٹی ہے اسکی سکیورٹی کے لئے بلیو ورلڈ سٹی نے حکومت سے منظور شدہ تین کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو سائن کیے ہوئے ہیں جن کےباقاعدہ ریکارڈ موجود ہے اور ان کمپنیوں کے افسران اپنے اپنے دفاتر میں موجود ہیں۔سی سی ڈی راولپنڈی نےلسٹیں ان کمپنی کے افسران سے مانگیں جو انکو مہیا کر دی گئیں، سی سی ڈی راولپنڈی جو بندے تفتیش کے لئے مانگےوہ متعلقہ کمپنی کےافسران نے انکے حوالے کر دئیے، جب متعلقہ کمپنیاں سی سی ڈی کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں تو پھر ایک عوامی نمائندے کے گھر چھاپہ کیوں؟اور اگران کمپنیوں کے بندے مجرم ریکارڈ رکھتے ہیں تو ان کے افسران سے پوچھیں؟ان کمپنیوں پر ایف آئی آرز دیں؟ ان کمپنیوں کو بلیک لسٹ کریں؟ اداروں کو انکے خلاف ایکشن لیتے ہوئے پاوں کیوں جلتے ہیں؟ کرنل (ر) رفاقت محمود ڈپٹی ڈائریکٹر سیکورٹی بلیو ورلڈ سٹی کا موقف آ گیا ہے جس میں ہر چیز واضح ہے تو پھر کیا یہ کاروائی محض سوسائٹی اور ایک عوامی نمائندےکو بدنام کرنے کے لیے کی گئی ہے.ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی چوہدری نعیم کے گھر سی سی ڈی کا چھاپہ،دو دن قبل سی سی ڈی نےبلیو ورڈ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 16کے قریب جرائم پیشہ افراد کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا تھا.

دوسری جانب سی سی ڈی راولپنڈی نے موقف اختیار کیا کہ چونترہ میں واقع ڈیرے پر ایک بڑا ریڈ کیا جس میں ڈیرے سے ایک شخص بازیاب کیا جو ڈیرہ غازی خان کا ریکارڈ ہولڈر تھا۔ مذکورہ شخص کو زبردستی رکھا گیا جبکہ اُس پر تشدد بھی کیا گیا ، سگریٹ جسم پر لگا کر ویڈیو بنائی گئی۔ سی سی ڈی ذرائع کے مطابق بازیاب شخص کے بیان کے مطابق ڈیرے پر کثیر تعداد میں دوسرے صوبوں کے خطرناک اشتہاری بھی موجود ہیں۔اس چھاپے کے دوران رکنِ صوبائی اسمبلی اور لیگی رہنما نعیم اعجاز نے ریسکیو 15 پر کال کی کہ سی سی ڈی کی ایس پی بینش فاطمہ، ایس ایچ او محسن اور درجنوں اہلکاروں نے ڈیرے پر چھاپہ مارا ہے اور میرے تین افراد اور نقدی لے گئے ہیں۔ادھر سی سی ڈی ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں اشتہاریوں کی پناہ گاہوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔