اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے عوامی ورکر پارٹی کے ممبر نوفل سلیمی سمیت 25 ممبران کے خلاف بغاوت کا مقدمہ واپس

اسلام آباد(سی این پی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے عوامی ورکر پارٹی کے ممبر نوفل سلیمی سمیت 25 ممبران کے خلاف بغاوت کا مقدمہ واپس لینے کے باوجود پولیس کی طرف سےچلان پیش کرنےاور ٹرائل کورٹ سے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے خلاف درخواست میں ٹرائل کورٹ کو مزید کاروائی آگے بڑھانے سے روکتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کو آئندہ منگل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیااور حکم دیاہے کہ مقدمہ واپس لینے کے باوجود کیوں کاروائی آگے بڑھائی گئی ؟ جواب دیں۔گذشتہبروز سماعت کے دوران وکیل نے کہاکہ 17 فروری 2020 کو بغاوت مقدمہ واپس لینے کا انتظامیہ نے بیان دیا،لیکن پھر مقدمہ واپس لینے کے باوجود چلان پیش کردیا،اب ٹرائل کورٹ نے اس کیس کے ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ،جن کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ان میں سے بہت سارے پاکستان میں بھی نہیں، عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئےمذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں