نیب مقدمات میں سزاؤں کی مجموعی شرح 66 فیصد ہے:جسٹس(ر) جاوید اقبال

اسلام آباد:(سی این پی)قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نےتمام افسروں کو پاکستان کو کرپشن فری بنانے کے لئے کوششیں دگنی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نیب مقدمات میں سزاؤں کی مجموعی شرح 66 فیصد ہے،نیب کی موثر پیروی کی بدولت 179 میگاکرپشن مقدمات میں سے66کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا، نیب پہلی بار ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جن کو کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ اکتوبر 2017 سے 30 نومبر 2021 کے دوران 1194 ملزمان کو احتساب عدالتوں نے سزا سنائی، 179 میگاکرپشن کیسز میں سے 66 میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے جبکہ 94میگاکرپشن کیسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نیب کی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو سراہا ، گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو نمٹانے کے لئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جن میں شکایات کی جانچ پڑتال کے لئے 2ماہ ،انکوائری کے لئے 4ماہ اور انویسٹی گیشن کے لئے 4 ماہ کا عرصہ مقرر کیاگیا ہے۔نیب نے تمام علاقائی بیوروز میں وٹنس ہینڈلنگ سیلز بھی قائم کئے ہیں ۔ اس اقدام کے باعث نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں