شیخ رشید کو تھانہ مری سے تھانہ کلڈنہ منتقل کر دیا گیا

مری پولیس نے شیخ رشید کو تھانہ مری سے تھانہ کلڈنہ منتقل کردیا۔سابق وزیر داخلہ کے بھتیجے شیخ راشد شفیق نے کہا کہ شیخ رشید سے ملنے بھی نہیں دیا جا رہا، شدید سردی میں انہیں حوالات کے فرش پر بٹھایا گیا۔

عدالت نے شیخ رشید کو راہداری ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔اسلام آباد کی عدالت میں شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

اسلام آباد کچہری نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو ایک دن کے راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے کیا۔پراسیکیوٹر عدنان نے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، ان کو مری کی عدالت میں پیش کرنا ہے۔

شیخ رشید کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ ان کے موکل کے راہداری ریمانڈ پر فیصلہ متعلقہ عدالت پہلے ہی سنا چکی ہے۔جج نے مری پولیس سے استفسار کیا کہ کیا پہلے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی تھی؟

تفتیشی افسر تھانہ مری نے کہا کہ پہلی بار کر رہے ہیں، اس سے پہلے نہیں کی۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ شیخ رشید اس وقت حراست میں ہیں، راہداری ریمانڈ اور سفری ریمانڈ دو مختلف چیزیں ہیں، مری پولیس کی جانب سے راہداری ریمانڈ کی استدعا پہلے مسترد ہو چکی، شیخ رشید کہیں بھاگے نہیں جارہے، حراست میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے حال ہی میں شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ کی استدعا مسترد کی تھی۔تفتیشی افسر تھانہ مری نے کہا کہ راہداری ریمانڈ پہلے طریقہ کار مکمل نہیں ہونے پر مسترد ہوا تھا۔

وکیل علی بخاری نے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مری پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا، جس کی مدعیت میں مقدمہ درج ہو وہ تفتیش نہیں کرسکتا، شیخ رشید کے گھر پر دھاوا بولا گیا، آئین انسانی حقوق فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی جانب سے 16 بار وزیر رہنے کے بیان سے کس کو خطرہ ہو گیا؟ متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ چھٹی پر ہیں، مری پولیس کل بھی راہداری ریمانڈ کی استدعا کر سکتی تھی، کیا ہوم سیکریٹری لاہور، ڈی سی راولپنڈی یا متعلقہ انتظامیہ کو گرفتاری سے آگاہ کیا گیا؟ شیخ رشید کے گھر سے سب کچھ برآمد کر لیا، پھر راہداری ریمانڈ کیوں چاہیے؟

شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ شیخ رشید کا اسلحہ لے گئے جس کا لائسنس موجود تھا، اگر راہداری ریمانڈ کی استدعا مسترد ہو چکی تو دوبارہ نہیں مل سکتا، مری پولیس نے راہداری ریمانڈ مسترد ہونے پر اپیل دائر نہیں کی۔

جج نے استفسار کیا کہ راہداری ریمانڈ مسترد ہونے کے فیصلے کی کاپی ہے؟

مری پولیس نے بتایا کہ کوئی فیصلہ جاری نہیں ہوا، زبانی کلامی بات ہوئی۔

شیخ رشید نے کہا کہ میری تھانہ مری میں درج مقدمے میں پیشی ہو چکی ہے، مجھ سے جیل میں اس حوالے سے تفتیش ہوچکی ہے۔

جج نے مری پولیس کو ہدایت کی کہ شیخ رشید کو کل 2 بجے دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں