میں کاغذ لہرا کر کہوں مجھے فلاں وکیل قتل کرنا چاہتا ہے تو اس سے ایف آئی آر درج ہو جائیگی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ نے سائفر کی تحقیقات کے لیے دائراپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف دائر درخواستیں خارج کردیں۔سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر اپیلوں کی چیمبر میں سماعت کی جس میں عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے اعتراضات کے خلاف اپیلیں خارج کردیں۔

دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سائفر کی تحقیقات کرانا حکومت کا کام ہے، عدالت کیوں مداخلت کرے؟ مبینہ بین الاقوامی سازش سے عمران حکومت گرانے کی تحقیقات اُس وقت کے وزیراعظم چاہتے تو خود کراسکتے تھے، عدالت سنی سنائی باتوں کی تحقیقات کا حکم کیسے دے سکتی ہے، ہم قیاس آرائیوں پر یقین نہیں رکھتے۔

معزز جج نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے تو سفارتی سطح پر تعلقات منقطع کرسکتے تھے، حکومتی اختیارات میں مداخلت نہیں کریں گے اور  نہ حکومت کو اپنے اختیارات میں مداخلت کی اجازت دیں گے، میں کاغذ لہرا کر الزام لگاؤں کہ مجھے فلاں وکیل نے قتل کی دھمکی دی، کیا اس طرح ایف آئی آر درج ہوجائے گی؟

جسٹس قاضی فائز نے  وکیل جی ایم چوہدری سے مکالمہ کیا کہ سپریم کورٹ کے برابر میں پارلیمنٹ کی عمارت قائم ہے، جائیں جاکرپارلیمنٹ کوکہیں وہ ہمیں اختیاردے پھر ہم مداخلت کرسکتے ہیں، سب سنی سنائی باتیں ہیں۔

دورانِ سماعت وکیل جی ایم چوہدری نے پاکستان کمیشن آف انکوائری کا حوالہ دیا جس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ میں انکوائری کمیشن بنانےکا اختیاربھی حکومت کے پاس ہے، جس کا کام ہے اسی کو کرنا چاہیے،اسی سے ملک آگے بڑھے گا۔

وکیل نعیم الحسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس وقت حکومت نے سکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلائی اور ڈیمارش جاری کیا گیا، جسٹس قاضی نے وکیل سے سوال کیا کہ یہ ڈیمارش کیا ہوتا ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں پتا جس پر معزز جج نے کہا کہ مجھے بھی نہیں پتا۔

بعد ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے اوردرخواستیں مسترد کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں