میں وزارت عظمیٰ کا انکار نہ کرتا تو عمران خان وزیراعظم نہ بنتا، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر میں 2018 میں وزارت عظمیٰ سے انکار نہ کرتا تو اس وقت عمران خان وزیراعظم نہیں بنتے۔ نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج تک عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کی پوری کوشش کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رانا ثنااللہ کو جعلی کیس میں گرفتار کیا گیا اور ان کے کیس میں ایک واٹس ایپ میسج کے ذریعے جج کو ہٹایا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کو یاد ہو کہ نواز شریف کے سامنے مریم نواز کو گرفتار کیا گیا جبکہ میں نے کہا تھا کہ ان کو گھر سے ضرور گرفتار کریں والد کے سامنے نہیں اور اسی طریقے سے آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کو چاند رات کو گرفتار کیا گیا اور ماڈل ٹاؤن میں میری بیٹیوں کے گھر کا گھیراؤ کیا گیا جن کا کسی کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کسی شخص نے بڑے تکبر کے ساتھ عدالت سے مقابلہ نہیں کیا جس طرح عمران خان کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی رہنماؤں پر روزانہ احتساب عدالت میں مقدمہ چلتا رہا اور سب عدالتوں میں پیش ہوتے رہے،حمزہ شہباز دو برس جیل میں رہا، خواجہ سعد رفیق، حنیف عباسی سب جیل میں رہے۔

اس سوال پر کہ عمران خان کے خلاف دفعہ 144 عائد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب عمران خان نے اپنے حواریوں سے ملکر ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی اگر وہ وقت اپوزیشن کو چن چن کر ملاکر معیشت کو ٹھیک کرنے کو دیتے تو اس طرح کے حالات نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ جب مجھے دوسری بار گرفتار کیا گیا تو دہشت گردوں کی گاڑی میں لایا گیا، ٹرائل کورٹ کو مسلسل کہتا رہا کہ کمر میں تکلیف ہے جس کے تین دن بعد گاڑی تبدیل کی گئی۔

عمران خان پر مقدمات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے خلاف میں نے کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا یہ تو قانون خود حرکت میں آیا ہے لیکن ممنوعہ فنڈنگ کیس فیکٹ فائنڈنگ کی بنیاد پر ہے، اگر کوئی شہری مقدمہ درج کرواتا ہے تو مجھ سے نہیں پوچھتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے وارنٹ میں نے نہیں بلکہ عدالت نے دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی انتخابات سے نہیں گھبرائے گی، ہم نے اپنی طرف سے پورا اعلان کر رکھا ہے اور اس پر کام بھی کیا ہے لیکن انتخابات کرانا آئینی اداروں کا کام ہے، ہمارے لوگ کاغذات جمع کرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں کاؤنسل آف کامن انٹریسٹ کا فیصلہ ہے جس پر مردم شماری پر کام جاری ہے جس کے فنڈ وفاقی حکومت نے دیے ہیں، مردم شماری پر تیزی سے کام جاری ہے جو کہ انتخابی عمل کا حصہ ہے لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کو اپنے علاقوں سے متعلق اعتراضات ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے آئین اور قانون کے ساتھ جڑے ادارے فیصلہ کریں گے ہم نہیں۔

توشہ خانہ پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کو قانونی معاونت حاصل تھی، کابینہ میں یہ معاملہ شروع ہوا تھا جب عمران خان نے خانہ کعبہ کے ماڈل کی گھڑی فروخت کردی، غیرملکی تحفہ لے کر توشہ خانہ میں جمع کیا جاتا ہے جس کے پیسے دے کر خود رکھا جا سکتا ہے اور اس کا سب کو حق تھا اور اب اس قانون میں تبدیلی ہوئی ہے لیکن عمران خان نے تحفہ لے کر بازار میں فروخت کیا اور جعلی رسید جمع کرائی اور یہ عمران خان کا جرم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت میں آنے سے قبل ہمیں علم تھا کہ حالات خراب ہوچکے ہیں، آئینی طریقے سے حکومت تبدیل ہوئی اور پتا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے لیکن یہ علم نہیں تھا کہ عمران خان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے طے شدہ شرائط کا بائیکاٹ کر چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج آئی ایم ایف وہ شرائط منوا رہا ہے جس پر یقیناً مجھے تکلیف ہے کہ اس کا اثر عام عوام پر ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے اشیا کی قلت ہوئی جس سے مہنگائی ہوئی ہے اور پھر سیلاب نے بھی پاکستان میں تباہی ہوئی نہ صرف یہ بلکہ عمران نیازی کا جھوٹ بھی اس عدم استحکام میں شامل ہے کہ امریکا نے سازش کی اور اس سے ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی اور پھر اس نے کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان کو ڈیفالٹ کردیا اور پاکستان کے دوست ممالک سے تعلقات کو تباہ کیا اور چین جیسے ملک کے بارے میں عمران کی حکومت میں جو باتیں ہوئیں وہ چینی حکومت کو پہنچی جس کے نتیجے میں کیا وہ ممالک نرمی کرتے، مگر آج بھی چین نے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر نے عمران خان کے ساتھ ملکر ڈیلی میل کو غلط معلومات دی جس پر بعد میں ڈیلی میل نے معذرت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے مشترکہ کاوش ہورہی ہے جس میں دیگر ادارے بھی بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

پارٹی میں اختلافات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ مریم نواز سے اختلاف ہوں ایسی کوئی بات نہیں ہے مریم نواز نے خود یہ مقام بنایا ہے اپنی بہادری اور دلیری سے اس سطح پر پہنچی ہیں اور جب ہر طرف اندھیرے تھے اس نے پارٹی اور والد کے لیے آواز اٹھائی اور یہ پارٹی کا فیصلہ ہے جو کہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سے نواز شریف اور مریم نواز ہے جن لوگو کو گمان تھا کہ ’ن‘ اور ’ش‘ الگ جماعت ہوگی آج ان کو منہ کی پڑ رہی ہے، مسلم لیگ نون پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہے اور جب نواز شریف آئیں گے تو پارٹی میں پوری قوت آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی واپسی کے لیے قانونی اور سیاسی حق استمعال کر رہے ہیں۔

نئے آرمی چیف پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ مکمل میرٹ پر ہے اور آرمی چیف سینیر ترین فوجی افسر تھے، مشکل اس لحاظ سے تھا کہ جب نئے سپھ سالار کی منتقلی ہوتی ہے تو افواہیں آجاتی ہیں اور پھر الگ الگ نام آجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں جنرل عاصم منیر سے پہلی بار ایک اجلاس میں ملا تھا جہاں سابق آرمی چیف راحیل شریف بھی موجود تھے اور انہوں نے تلاوت قرآن پاک کی اور وہاں پتا چلا کہ وہ حافظ قرآن بھی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب یہ معاملہ آیا تو بہت قانونی پہلو دیکھنے پڑے، بدقسمتی کی بات ہے ملک کی بصیرت کا فیصلہ کرنے جارہے تھے اور یہاں ’میرا بندہ تیرا بندہ‘ لگا ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جی ایچھ کیو سے فہرست میں عاصم منیر کا نام پہلے نمبر پر تھا، ہم نے قانون کا سہارا لیتے ہوئے یہ عمل کیا اور اس زمانے میں من پسند لوگوں کے نام آنا شروع ہوگئے۔

آفتاب سلطان کا بطور چیئرمین نیب کے عہدے سے استفعیٰ دینے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آفتاب سلطان پروفیشنل انسان تھے جنہوں نے پوری زندگی اچھے طریقے سے گزاری اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔

ارشد شریف قتل کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ارشد شریف کے معاملے پر میں نے فوری طور پر کمیشن بنایا جس پر اعتراضات ہوئے اور پھر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا اور اس کے ساتھ ساتھ کینیا کے صدر سے حقیقت بتانے کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ انتظار ہے کہ ہماری ٹیم کو کینیا بلایا جائے اور تمام حقائق سے آگاہ کیا جائے، ہماری پوری کوشش جاری ہے انصاف کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

2018 کے الیکشن سے قبل وزارت عظمیٰ کی آفر کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ایک میٹنگ میں جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور جنرل (ر) فیض موجود تھے جہاں مجھے ایسی پیش کش ہوئی تھی لیکن میں نے آخر میں بغیر کسی کا نام لیے اس ملاقات میں کہا تھا کہ نواز شیرف میرے بڑے بھائی ہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میں اپنے بھائی کو چھرا گھونپ کر وزیراعظم بن جاؤں تو ایسی وزارت عظمیٰ نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کی ترقی میں اہم کرادار ادا کیا جس میں سی پیک اور دیگر منصوبے شامل ہیں جبکہ اپنی جیب سے خرچ کرکے پاکستان میں بجلی کے اندھیروں کو ختم کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر میں وزارت عظمیٰ کا انکار نہ کرتا تو عمران خان وزیراعظم نہ بنتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں