کروڑوں روپوں کی منی لانڈرنگ،تہلکہ خیز انکشافات،مرکزی ملزم کے بااثر شخصیات، سول ایوی ایشن کے افسران سے رابطے سامنے آگئے

اسلام آباد(سی این پی)اسلام آباد ایئر پورٹ سےکروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی کی منی لانڈرنگ ابو ظہبی سمگل کرنے کی کوشش کے مقد مہ میں کسٹم نے پانچ ملزمان کی گر فتاری کے لئے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لئے ، مرکزی ملزم کے موبائیل ریکارڈ سے اہم انکشاف پانچ د فعہ پہلے بھی کروڑوں سمگل کیے گئے ملز م کے بااثر شخصیات ، سول ایوی ایشن کے چند افسران سے رابطے بھی سامنے آ گئے فون سب کا پول کھول دیا سے ملزم ملزم راجہ گل نواز عباسی سول ایویا ایشن اتھارٹی میں کنٹریکٹ ملازم ہے اور سول ایوی ایشن افسران کا ایئر پورٹ پر پروٹوکول کرتا رہا ہے۔ اور پروٹوکول کی آڑ میں ملک کی اہم کاروباری شخصیات کی منی لانڈرنگ میں سہولت کار کے طور پر کام کرتا ہے۔ کسٹم نے تینوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے تین روزہ ریمانڈ لے لیا تھا دوران تفتیش ملز م نے انکشاف کیا کہ قبل از ین وہ پانچ د فعہ پہلے بھی کروڑوں سمگل کئے تھے اس نے انکشاف کیا کہ کر نسی سمگلنگ میں دبئی کر تا رہاوہاں پر کر نسی کے ساتھ مو بائیل فون بھی سمگل کر تا رہا دو دفعہ اسلام آباد ایئر پورٹ کسٹم نے پکڑ لئے اور الگ الگ مقد مات بھی درج کئے تھے تاہم کسٹم نے عدالت پیش کر کرکے ریمانڈ لے کر تفتیش کی تو ملزم نے اپنے پانچ ساتھیوں کے ناموں کا انکشاف کر دیا جس پر کسٹم نے پانچ ملزمان کی گر فتاری کے لئے وارنٹ لے کر چھاپے مارنے شروع کر دے ہیں تاہم ملزمان روپوش ہو چکے ہیں کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ اس کے مو بائیل سے باا ثر شخصیات کے نمبر بھی ملے ہیں جان سے ملزم کے رابطے تھے تاہم کسٹم نے تحقیقات کا دائرہ کار بھی وسیع کردیا گیا یاد رہے کہ ایئر پورٹ پر تعینات کسٹم سٹاف انسپیکٹر محمد عدنان خان اور سپریٹینڈینٹ عتیق الرحمان نے سول ایوی ایشن کے اہلکار راجہ گل نواز عباسی سمیت تین ملزمان کی تلاشی لی تو دوران تلاشی اس سی غیر ملکی کرنسی 70000 یورو۔56500 سعودی ریال۔اور 8000 دوبئ درہم برآمد ہوئے جو پاکستانی 16975195 روپۓ بنتے ہیں۔زرائع کے مطابق ملزم راجہ گل نواز عباسی پی آئ اے کی اسلام آباد سے ابوظہبی جانے فلائیٹ پی کے 261 کے ذریعہ سے جانے والے چک بیلی راولپنڈی کے رہائشی دو مسافر محمد اکرم ولد اورنگزیب پاسپورٹ نمبر AM 1327784اور نوید احمد ولد اورنگزیب پاسپورٹ نمبر DZ1160452 کی دی ہوئ غیر ملکی کرنسی اپنے ساتھ لے کر جارہا تھا جو سول ایوی ایشن کے افسران کے پروٹوکول کی آڑ میں پاکستان سے کروڑوں ڈالر کی کرنسی بیرون ملک سمگل کر تا تھا ۔۔اس سلسلہ میں مزید تفتیش جاری ہے اور اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔زرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کے افسران اور اہلکار منی لانڈرنگ کے سلسلہ میں سہولت کار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ملزم راجہ گل نواز عباسی مری کا رہائشی ہےدوسری جانب سول ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ ملزم راجہ گل نواز عباسی کنٹریکٹ ملازم تھا اور اگر اس نے منی لانڈرنگ کی ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے اس معاملے میں سول ایوی ایشن کا کوئی تعلق نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں