بکا خیل ، ڈی آئی خان میں پی ٹی آئی امیدواروں کی نااہلی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بکا خیل اور ڈی آئی خان میں پی ٹی آئی امیدواروں کی نااہلی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی۔

پی ٹی آئی کے مامون الرشید نے عدالتِ عالیہ میں تحصیل چیئرمین کا الیکشن لڑنے سے روکنے کا آرڈر بھی چیلنج کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ جب اتنی سنگین خلاف ورزی ہو گی تو پھر تو پوری سیاسی جماعت ذمے دار ہو گی، اتنی خلاف ورزی کہ ایک وزیر بیلٹ باکس ہی اٹھا کر لے جائے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مخالف امیدوار کی جانب سے الزامات لگائے گئے، ہائی پاور انکوائری کمیٹی بنی جس نے اپنی فائنڈنگز دیں، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر نے اپنی جگہ کسی اور کو بٹھا دیا اور کہا کہ آدھے پیسے لے لینا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا آرڈر دکھا دیں کہ وہ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ اس کورٹ کی اپروچ ہے کہ الیکشن کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، یہ اپیل نہیں ہے، بتا دیں کہ یہ عدالت رٹ کے دائرہ اختیار میں کس حد تک جا سکتی ہے؟

وکیل احسن بھون ایڈووکیٹ نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے شاہ محمد کو 5 سال کے لیے پبلک آفس ہولڈ کرنے کے لیے نا اہل قرار دیا ہے، بکا خیل میں تحصیل چیئرمین کا الیکشن لڑنے والے مامون الرشید کو فوجداری کارروائی مکمل ہونے تک الیکشن لڑنے سے روکا گیا ہے، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسر نے اپنی جگہ کوئی اور بندہ بٹھا رکھا تھا۔

احسن بھون ایڈووکیٹ نے بتایا کہ محبت خان نامی شخص نے اپنی جگہ قدرت اللّٰہ کو بٹھایا ہوا تھا، انکوائری میں محبت خان کے خلاف کرپٹ پریکٹس کی کارروائی کا بھی کہا گیا، اب وہی محبت خان جو موجود نہیں تھا ہمارے خلاف شکایت کرتا ہے، محبت خان دراصل مخالف پارٹی جے یو آئی کا کارکن ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بیلٹ باکس اٹھانے کے الزامات معمولی نہیں ہیں، عدالت جو بھی آرڈر کرے گی وہ عدالتی نظیر بنے گا، الیکشن کمیشن کو تو مزید مضبوط اور با اختیار کرنا چاہیے۔

درخواست گزارکے وکیل احسن بھون ایڈووکیٹ نے بتایا کہ یہ افغانستان کے ساتھ کا علاقہ ہے، وہاں جن لوگوں کا اثر ہے ان کا نام کوئی بھی نہیں لیتا، یہ جگہ بالکل بارڈر پر ہے، وہاں جے یو آئی کا پلڑا بھاری ہے، جو کچھ وہاں الیکشن میں ہوا یہ لوکل لوگوں کا کام نہیں ہے، بارڈر کی دوسری جانب سے بندے کون لایا، اس کا نام کوئی نہیں لیتا، نہ حکومت ان کا نام لے رہی ہے، نہ ہی یہ لوگ لیتے ہیں، اتوار کو الیکشن ہے، الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ امن و امان میں شفاف انتخابات کرائے، انتخابات میں تمام امیدواروں کو الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں