کسی جج کو بھی دھمکی نہیں دی جاسکتی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(سی این پی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے سینئر صحافی محسن بیگ کے خلاف پیکا ایکٹ اور دہشت گردی کے مقدمات کے اخراج کی درخواستوں پر پولیس کو قانون کے مطابق اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تشدد کی شکایت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔گذشتہ روز محسن بیگ کی اہلیہ کی درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش اور کہاکہ محسن بیگ کو گرفتاری کے بعد پولیس کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ حبس بے جا کی درخواست نہیں، مقدمہ اخراج کی درخواست پٹیشنر خود درخواست دائر کر سکتا ہے،کوئی تیسرا شخص مقدمہ خارج کرنے ہی درخواست دائر نہیں کر سکتا،آپ پٹیشن میں ترمیم کر لیں، متاثرہ شخص کی طرف پٹیشن دائر ہو سکتی ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ کیا ملزم مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر نہیں کرنا چاہتا؟، وکیل نے کہاکہ ایک متفرق درخواست یہ بھی دی ہے کہ پٹیشنر کا میڈیکل کرایا جائے،معاون وکیل نے کہاکہ میری بڑی مشکل سے ملاقات ہوئی تو محسن بیگ نے اپنی سٹوری بتائی،محسن بیگ نے بتایا کہ انہیں ایس ایچ او کے روم میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ دو باتیں تھیں، ایک معاملہ غیر قانونی حراست اور تشدد کا بھی ہے،ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلہ دیا تو ان کے خلاف شکایت درج کرانے کی بات کی جا رہی ہے،چیف جسٹس نےکہاکہ کسی جج کو بھی دھمکی نہیں دی جا سکتی،اس عدالت کے ماتحت جج کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،بہت افسوسناک ہے کہ وزیراعظم تک اس معاملے میں شامل ہو گئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم کے علاوہ کوئی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر نہیں کر سکتا، عدالت نے کہاکہ محسن بیگ تک وکیل کی رسائی کو نہ روکا جائے،عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات کے ساتھ محسن بیگ پر پولیس سٹیشن میں تشدد کی رپورٹ طلب کرلی اور آئی جی پولیس کوآئندہ سماعت تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت21 فرقری تک کیلئے ملتوی کردی۔بعدازاں جاری سماعت کے تحریری حکم۔نامہ میں عدالت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد کومحسن بیگ پر مبینہ تشدد کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئےیہ بھی ہدایت کی ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مارگلہ پولیس اسٹیشن کی انسپکشن کریں اور تشدد سے متعلق الزامات کی انکوائری کریں، عدالت نے آئی جی سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی اور کہاکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی تشدد کی انکوائری رپورٹ جمع کروائیں، عدالت کایہ بھی کہناہے کہ دوران حراست پولیس سٹیشن میں تشدد ناقابل برداشت ہے، تشدد پر زمہ دار افسران کیخلاف نتائج ہوسکتے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس اورایف آئی آر معطل کرنے کی درخواست پرفریقین کوجواب کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاکہ دوران حراست تشدد اور وکیل کو ملزم تک رسائی نہ دینا سنجیدہ معاملہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں