امریکی جیل میں قرآن پڑھنے پر ڈاکٹر عافیہ کو شاک لگائے جاتے ہیں، فوزیہ صدیقی

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکا میں قید اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکا سے وطن واپسی کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وطن واپسی پر اللہ کا شکر ہے، امریکا کے دو دورے ایسے ہوئے کہ کوئی لاکھوں روپے دے تب بھی نہ جاو¿ں، واشنگٹن میں کچھ لوگوں سے ملی، عافیہ کےلیے کوششیں کیں۔انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ عافیہ سے ملاقات کے لئے پہلے دن کمرے میں لے گئے، شیشے والا کمرہ تھا، لیکن فون خراب تھا، ہم نے کہا فون صحیح کرو تو انہوں نے کہا کہ صحیح کرنے کےلیے پیچ کس موجود نہیں، ہم نے چیخ چیخ کر بات کرنے کی کوشش کی، وکیل بھی ہمراہ تھے، امریکی حکام نے عافیہ سے کسی طرح کی دستاویزات پر دستخظ نہیں کروانے دیے، اگلے روز دوسرا فون لگاکر بات کروائی، جیل حکام نے کیمیکل سے کچھ کردیا تھا، جیسے ہی میں نے فون اٹھایا میرا سانس رک گیا اور کھانسی شروع ہوگئی، برا حال ہوگیا جس کی وجہ سے عافیہ سے بات نہیں کرسکی، فون بند کیا تو امریکی حکام نے دوبارہ بات کروانے سے انکار کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت مشکل سے دوبارہ بات کروائی گئی، عافیہ پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دیں، ذہنی طور پر برین ڈرین کے ذریعے N3 دماغی تشدد کیا گیا، انہیں باندھ کر سر میں شاک لگائے گئے، عافیہ کے ہاتھ میں بائبل دے کر انہیں کہا گیا کہ بس اس میں سے پڑھ کر سناسکتی ہو، عافیہ نے وکیل اور مجھ سے کہا کہ آپ سے کوئی بات نہیں کروں گی پہلے آپ یہ سنیں اور بائبل کھول کر پڑھنا شروع ہوگئی، پھر رونے لگی اور پھر کہا کہ قرآن پاک پڑھوں تو شاک لگائے جاتے ہیں،

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ جب عافیہ صحیح سے بات کرنے لگیں تو امریکی ان کو وہاں سے لے گئے اس حال میں کہ وہ رو رہی تھی، اور مجھے بھی وہیں کمرے میں بند کردیا، میرے پاس ایک ٹشو پیپر تک نہ تھا جبکہ کیمیکل سے میری طبیعت پہلے ہی خراب ہورہی تھی، کمرے میں ہوا کا کوئی گزر بھی نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ شاید امریکی سمجھ رہے تھے کہ عافیہ بالکل ختم ہوچکی ہیں، لیکن ہم سے ملاقات کے بعد عافیہ کا ذہن جب کام کرنے لگا تو نارملائز ہونے لگیں تو پھر ملاقات ختم کردی۔ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ عافیہ سے زیادتی کی گئی، شاک لگائے گئے، دماغ کو اور مذہب کو بدلنے کی کوشش کی گئی، ان کی بیٹی کو اغوا کرکے مسیحی مشنری کے حوالے کیا گیا، ہمارے حکمرانوں کی غیرت کہاں ہے؟ پچھلے ہوں یا موجودہ حکمراں اس جرم میں سب برابر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں