انتخابی ترمیمی بل 2021 پر دستخط ایک بڑا قدم ہے، اس سے دھاندلی کا خاتمہ ہو گا اور پاکستان کو جمہوری طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی:صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد: (سی این پی)بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا ہے، آئندہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، انتخابی ترمیمی بل کے لئے بھرپور کوششوں اور انتھک کاوشوں پر وزیراعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں صدر ڈاکٹر عارف علوی کا انتخابی ترمیمی بل 2021 پر دستخط کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطابصدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابی ترمیمی بل 2021 پر دستخط کو ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دھاندلی کا خاتمہ ہو گا اور پاکستان کو جمہوری طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ انتخابی ترمیمی بل پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان،گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان اور اراکین پارلیمنٹ سمیت وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد انتخابی ترمیمی بل 2021 قانون بن گیا ہے۔ اس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا ہے جبکہ آئندہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابی ترمیمی بل کے لئے بھرپور کوششوں اور انتھک کاوشوں پر وزیراعظم عمران خان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ تمام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، 2013 کے الیکشن میں بیلٹ باکس اور پریزائیڈنگ آفیسرغائب ہوئے تھے،انتخابی ترمیمی بل 2021کے قانون بن جانے کے بعد انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کو روکنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف بنائے گی، ماضی میں حکومتوں کے پانچ سال دھاندلی کے الزامات کی نظر ہوجاتے تھے، نئی قانون سازی کے بعد انتخابات کا صاف اور شفاف انعقاد یقینی بنے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ ملک کو آگے لے کر جائیں ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کے لئے سب کو قائل کریں گے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے انتخابات کے شفاف انعقاد میں سہولت ہوگی، اب ووٹرز کا بیلٹ پیپر ان کے سامنے پرنٹ ہوگا۔ صدر نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیلکولیٹر کی طرح کام کرتی ہے، ای وی ایم سے ووٹوں کی چوری جیسے الزامات کا خاتمہ ہوگا، اس مشین کے ذریعے فوراً نتیجہ آپ کے سامنے ہوگا، انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کا بھی اتناہی حق ہے جتنا کہ عام پاکستانیوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی طریقوں سے انتخابی دھاندلی کی جاتی تھی، پاکستان اس وقت ترقی کرے گاجب ہم جدت کو اپنائیں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ وزارت سانئس و ٹیکنالوجی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مینوفیکچرر نہیں ہے، اس نے پروٹوٹائپ مشین بنائی ہے، اس بات کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا کہ اسے کیسی مشین چاہئے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ٹائم لائن متعین کرنی چاہئے تاکہ ای وی ایم کو حاصل کیا جائے، لوگوں کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ نئی قانون سازی کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے حق رائے دہی استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے ، نئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ہیکنگ کا امکان کم ہے، کوئی بھی ملک نئی چیزیں تیار کر کے ترقی کرتا ہے، پاکستان اس وقت ترقی کرے گا جب ہم اپنے کام میں جدت پیدا کریں گے ، پاکستان کو ای وی ایم کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ووٹنگ کی بھی ضرورت ہے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت نے عوام سے جو وعدہ کیا تھا وہ اسے پورا کرے گی تاکہ ملک کو آگے لے کر جایا جاسکے ۔ صدر مملکت نے کہاکہ ماضی میں پاکستان کے ہر حلقے میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا، 2013 میں ہمارا الزام تھا کہ ووٹ بکتے ہیں، کئی انتخابی حلقوں میں 3لاکھ اضافی بیلٹ پیپر چھاپے گئے جس پر ہم نے احتجاج کیا۔ وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تمام الیکشن متنازعہ ہونے کے باعث ملکی سیاسی و جمہوری نظام متاثرہوا ، الیکٹرانک ووٹنگ کیلئے 2010 سے کوششیں جاری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں 23 ماہ باقی رہ گئے ہیں، تیاری کیلئے مناسب وقت دستیاب ہے، الیکشن کمیشن نے ای وی ایم اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کیلئے تین ٹیکنیکل کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ہم ملک میں انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے۔ صدر مملکت ، وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین نے اس میں دلچسپی لی، نئی قانون سازی کے بعد اب ہمارے پاس مناسب وقت ہے تاکہ اس کو عملی جامہ پہناسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور مچتا ہے جس نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیا ہے،2010میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کرانے میں 5سے 10سال لگیں گے ، اس لئے اب ہمیں ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہئے ، وزیراعظم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے کے لئے 90دن کا وقت دیا تھا جسے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس بات کا فیصلہ کرے کہ اس نے انتخابات میں کونسی مشین استعمال کرنی ہے ، الیکشن کمیشن نے 3کمیٹیاں بھی بنا دی ہیں جس میں ایک تکینکی کمیٹی بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں دلیرانہ فیصلے کئے ہیں جس سے ہم ملک میں سیاسی استحکام لاسکتے ہیں ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا بڑا دن ہے ، پاکستان کے ماضی کے حکمران نعرے لگا کر اور وعدے کرتے ہوئے رخصت ہو گئے، 3سال کی محنت اور پارلیمنٹ میں ایک سال کی کوشش کے بعد قانون سازی کی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز اور دیگر حکومتی عہدیداروں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے، نئی قانون سازی کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو فیصلہ سازی میں پہلی بار شامل کر رہے ہیں جس پر صدر ، وزیراعظم ، پارلیمنٹ ، پاکستان کے عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے اپنے حلقوں میں ہزاروں جعلی ووٹ بنائے ہیں اور وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے خوفزادہ ہیں ۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ 2023کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہوں گے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دھاندلی کو روک سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں