صدر پیوٹن نے اہم قدم اٹھا لیا، روس یوکرین جنگ کے سائے مزید گہرے

روس کے صدر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ 2014 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے ‘منسک’ کے خاتمےکا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پیوٹن کا کہنا ہےکہ منسک امن معاہدے کوپورا کرنے کے لیے اب کچھ بھی نہیں بچا۔

روسی صدر نے معاہدہ ختم ہونےکا ذمہ دار یوکرین کو ٹھہراتے ہوئےکہا کہ یوکرین اپنے نیٹو رکنیت کےعزائم کو ترک کرنےکا بہترین فیصلہ لے سکتا ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ یوکرین کو غیر مسلح کیا جانا چاہیے، ڈونباس میں روسی فوج کی ممکنہ کارروائیاں زمینی صورت حال پر منحصر ہوں گی، ڈونباس میں روسی فوج کی مخصوص کارروائیوں کا پہلے سے بتانا ناممکن ہے۔

دوسری جانب  روسی پارلیمان نے روس سے باہر افواج کی تعیناتی منظوری دے دی  ہے۔

ادھر یوکرین کے وزیردفاع نے یوکرینی فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار رہنےکا حکم دے دیا۔

اولیکسی ریزنیکوف نے اپنے پیغام میں فوجیوں کو کہا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں، مشکلات ہوں گی، نقصانات ہوں گے، ہمیں درد کو برداشت کرنا ہوگا، ہمیں خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہوگا، روس کے خلاف یقینی فتح ہوگی۔

یوکرینی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کریملن نے سوویت یونین کی بحالی کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے،کل پیوٹن نے اپنا اصلی چہرہ دکھایا، مجرم کاچہرہ ، جوپوری آزاد دنیا کویرغمال بنانا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں