تھانہ بھارہ کہو پولیس نے قانون کی دھجیاں اُڑا دی۔ بغیر لیڈیز پولیس کے گھر کی تمام بچیوں اور80 سالہ بوڑھی خاتون کو بھی تھانے منتقل کر کے تشدد کا نشانہ بنایا

اسلام آباد(سی این پی) تھانہ بھارہ کہو پولیس نے قانون کی دھجیاں اُڑا دی۔ بغیر لیڈیز پولیس کے گھر کی تمام بچیوں اور80 سالہ بوڑھی خاتون کو بھی تھانے منتقل کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایس ایچ او اور اے ایس آئی جلاد بن گٸے۔ اپنے ہی گھر پر رہنے کی ایف آٸی آر کاٹ ڈالی۔ اہل خانہ کی تمام بچیوں کی آئی جی اسلام آباد احسن یونس سے انصاف کی اپیل ۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ بھارہ کہو پولیس کے ایس ایچ او اور اےایس آئی صہیب نے وفاقی شہر میں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بغیر لیڈیز پولیس لیے گھر میں موجود 80 سالہ بوڑھی خاتون اور گھر کی تمام بچیوں پر دھاوا بول دیا۔ گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں موجود تمام بچیوں پر تشدد کیا ظالم پولیس والوں نے چھوٹے معصوم بچوں کو بھی نہ چھوڑا۔ پورے گھر کی عورتوں کو تشدد کرتے ہوئے تھانے منتقل کردیا۔

اور ان سب عورتوں اور گھر کے مردوں پر مکان پرقبضے کا مقدمہ درج کرلیا چھوٹی معصوم بچی نے دفتر آکر روتے ہوئے ساری ظلم کی داستان سنادی۔ بے حس اے ایس آئی صہیب نے معصوم بچوں کو رات کے تین بجے تھانے سے باہر نکال دیا کہ یہاں سے چلے جاؤ معصوم بچوں نے روتے ہوئے کہا کہ ہم کہاں جائیں ہماری امی اور بہن نے تو اندر ہیں۔ اے ایس آٸی صہیب نے بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو یتیم خانے جانے کو کہا۔ معصوم دونوں بہن بھائی رات کے تین بجے بے یار و مددگار اتنی سردی میں تھانے کے باہر کھڑے رہے۔ 80 سالہ خاتون پر بھی تشدد کیا۔ ایک شریف گھرانے کی عورتوں اور معصوم بچیوں پر پولیس کی اس طرح قانون کی دھجیاں اڑاتےاور لاقانونیت سے کام کرتے ہوئے جس طرح تشدد کیا گیا۔اس کی مثال نہیں ملتی۔ معصوم بچیوں کی آئی جی اسلام آباد احسن یونس مدد اور انصاف کی اپیل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں