ایف آئی اے نے سال نو کی شروعات ای۔انوسٹگیشن سے کی۔ڈی جی ایف آئی اے ثنااللہ عباسی کا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے لیے اہم اقدام

اسلام آباد(سی این پی)ایف آئی اے نے سال نو کی شروعات ای۔انوسٹگیشن سے کی۔ڈی جی ایف آئی اے ثنااللہ عباسی کا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے کے لیے اہم اقدام۔ سائلین اور گواہان کوویڈیو کانفرنسنگ کےذریعےانکوائری اور تفتیش میں شامل کرنے کا فیصلہ۔ انکوائری کے لیے درکار دستاویزات بذریعہ ای میل اور وٹس ایپ وصول کرنے کی ہدایت۔ ای انوسٹگیشن کے ذریعے زیرالتوا انکوائریز کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
اس اقدام کا فیصلہ زیر التوا انکوائریز میں دور درازعلاقوں کے سائلین اور گواہان کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ سائلین اور گواہان کو بذریعہ آن لائن بیان ریکارڈ کروانے سے آنے جانے کے اخراجات اور وقت کی بھی بچت ہوگی ۔ اس سسٹم کو کامیاب کرنے کے لیے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون وقار احمد چوہان کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔ اسلام آباد زون کے انکوائری افسران کو 80لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی گئیں اور ایک دن کا ٹ

ریننگ پروگرام بھی کروایا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں اس جدید سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ یہی سسٹم ایف آئی اے کے ملک بھر کے دفاتر میں آج سے شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ای۔انوسٹگیشن کے دوران آج کرنل ریٹائرڈ (جنرل مینجرموٹرزمہران سپائسز پرائیوٹ لمیٹڈ کراچی) جو اپنی عمر اور صحت کے باعث کراچی سے اسلام آباد نہیں آ سکتے تھے کا آن لائن بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح شبیراحمد دھانجی ڈیلر/ مالک ‘کار ڈیلرز’ کلفٹن کراچی، راشد خورشید کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کراچی جو اپنی مصروفیات کی وجہ سے کراچی سے اسلام آباد نہیں آ سکتے تھے کابھی آن لائن بیان ریکارڈ کر لیاگیا۔اسی طرح کارپوریٹ سرکل کی تفتیش میں ایک اہم سائنسی ادارے کے سنیئر سائنسدان کا بھی بیان قلمبند کیا گیااور وقاص احمد جو کہ امریکی ریاست ورجینیا میں رہائش پذیر ہےکا آن لائن بیان ریکارڈ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں