ایف نائن پارک شہریوں کیلئے نو گو زون بن گیا، جواں سال لڑکی کیساتھ زیادتی کرنے والے ملزمان کو تلاش کرنے میں پولیس ناکام

اسلام آباد(عر فان بخاری )وفاقی دارالحکومت میں ایف نائن پارک شہریوں کے لئے نوگو(No go zone)کی حیثیت اختیار کرنے لگا 15 پر ایف نائن پارک میں ریپ کی کال موصول پولیس کی بھاری نفری ایف نائن پارک پہنچ گئیپولیس کا پارک میں سرچ آپریشن شروع جوجرائم پیشہ عناصر کےلئے خواتین سے زیادتی اورگن پوائنٹ پرواک کرنے آئے خواتین ومردوں کولوٹنے کی اس علاقہ کی سب سے محفوظ جگہ بن چکی ہے۔جواں سال لڑکی کے ساتھ گن پوائنٹ پرریپ کیس کے ملزمان کو وقوعہ کے بعد ابھی تک ٹریس نہ کیاجاسکا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق حالیہ پیش آنیوالے خاتون کے ساتھ زیادتی سمیت پچھلے ایک سال میں ایک میں مجموعی طور پرسینتیس (37)خطرناک وارداتیں ہیش آچکی ہیں جس میں نجی فوڈڈیلیوری کمپنی کے منیجر کوقتل سمیت چھ لڑکیوں اورخواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات ہوئے۔پولیس ذرائع نےبتایاکہ پچھلے ایک سال میں ایف نائن پارک میں واک کے لئے آئے اکتیس لوگوں کو اسلحہ کی نوک پرلوٹاجاچکاہے جس میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ایک واقعہ میں غیرملکی خاتون کوبھی لوٹاجاچکاہے۔پولیس ذرائع کا کہنا کے کہ پولیس کی ریکارڈ بک کے مطابق اسی عرصہ کے دوران چھ لڑکیوں اورخواتین کو ایف نائن پارک کے اسی جنگل ایریا جہاں پر یکم جنوری کودو افراد نے گن پوائنٹ پر ریپ کیاجس کے ملزمان پولیس ابھی تک گرفتار کرنا تودرکنارابھی ٹک ٹریس بھی نہیں کرپائی کہ ملزمان کے طرف سے آئے اور اسلحہ لیکر عوامی تفریحی مقام تک کیسے پہنچے اسی حدوداربعہ میں اس سے قبل پانچ خواتین کے ساتھ ریپ کیاجاسکا ۔ تازہ ترین واقعہ جس میں مارگلہ پولیس نے ایک مشتبہ ملزم کی شکل کاخاکہ بھی جاری کردیا ہے سے قبل ہیش آنیوالے ایک اس سے زیادہ دلخراش واقعہ میں ملزمان کو ٹریس کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی جس میں پولیس تفتیش میں انکشاف ہواتھاکہ اسوقت تک ایف نائن پارک میں ڈیوٹی کرنے والے سی ڈی اے کے بعض ملازمین مبینہ ملوث نکلے تھے اور انہوں نے پولیس تفتیش میں مبینہ اعتراف کیاتھا کہ وہ یہاں پر آنے والے جوڑوں کوگھات لگاکر چھپ کر دیکھتے رہتے تھے اورانہیں پتہ چل جاتا تھا کہ لڑکا لڑکی دوستوں والا کون سا جوڑا ہے جسے وہ قابو کرلیتے تھے اور پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی دیکر جواں سال لڑکی کے ساتھ ریپ کرڈالتے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے اس معاملہ کونامعلوم وجوہات کی بناء پر ٹھپ کردیاگیا جس کے بعد کچھ عرصہ تک ایسے واقعات رکے رہے تاہم اس دوران پارک میں گن پوائنٹ پرواک پر آئے مردوخواتین کولوٹنے کےواقعات پورے تسلسل کے ساتھ جاری رہے جس میں سے کسی ایک واقعہ میں بھی پولیس اس منظم انداز میں ہونیوالی وارداتوں کاسراغ نہ لگا پائی۔پولیس ذرائع نے مذید بتایاکہ ایف نائن پارک کے جنگل ایریا میں سیر کے لئے آئے جوڑوں کو بلیک میل کرکے جواں سال لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بیشتر میں ملزمان مختلف ہتھکنڈوں سے جوڑوں کو مبینہ طورپربلیک میل کرکے بات کو پھیلنے نہیں دیتے تھےجنکا پولیس نے ایک مرتبہ مکمل سراغ بھی لگالیا تھا دوسری جانب سیف سٹی کیمروں کو مکمل فعال کردینے کے اعلی پولیس حکام کے دعووں کے بعد ہیش آنیوالا حالیہ واقعہ میں ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے جوچار یوم قبل پیش آیا اور اتنے دن گذر جانے کے باوجود ابھی تک پولیس کی تفتیش کا تمام تر دارومدار زیادتی کا شکار بننے والی جواں سال لڑکی جو کسی نجی ہاوسنگ سوسائٹی کی ملازمہ بتائی گئی ہے سے ہی مختلف طریقوں سے تفتیشی انداز سے سوالات کرکے ملزمان تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف عمل بتائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک سینئیر آفیسر نے گفتگو میں بتایاکہ سیف سٹی دفتر میں متاثرہ خاتون کولے جایا گیا جہاں پراسے یکم جنوری کی دوپہر سے شام تک اس ایریا سے ملحقہ شاہراہوں سے گذرنے والے افراد کی ویڈیوز دکھائی گئیں تاکہ وہ ملزمان کوشناخت کرکے پولیس کوبتاسکے لیکن ابھی تک ملزمان کوٹریس نہیں کیاجاسکا ۔ ایف نائن پارک میں آئے روز ایسے واقعات نہ صرف پولیس کے کئے چیلنج بن چکے ہیں بلکہ یہ ایک تفریحی مقام پر ہونے کی وجہ سے پارک کی بدنامی کابھی باعث بن رہے ہیں ۔ ایک سوال پر انکا کہنا تھاکہ پولیس مختلف زاویوں سے تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ جس دوست کے ساتھ متاثرہ لڑکی پارک میں گھومنے کے لئے آئی تھی اس پرپولیس کوکوئی شک نہیں ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان اسکے کوئی ساتھی تھے یا وہ انہیں جانتا تھا۔ وفاقی پولیس کے سینئیر آفیسر نے کہاکہ سی ڈی اے کے ایف نائن پارک میں انوائرمنٹ ونگ کے دفاتر بھی ہیں اور پارک میں نالیوں سمیت دیگر سٹاف بھی ڈیوٹی کرتاہے اسلئے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے انہیں بھی شامل تفتیش کیاجارہا ہے۔آج اسلام آباد تھانہ مارگلہ 15 پر ایف نائن پارک میں ریپ کی کال موصول پولیس کی بھاری نفری ایف نائن پارک پہنچ گئیپولیس کا پارک میں سرچ آپریشن جاریمتعلقہ ایس ایچ او نعیم الحسن بھاری نفری کے ہمراہ ایف نائن پارک میں موقع پر پہنچ گئے پولیس کو موصول ہونے اولی کال فیک نکلی، پولیس ذرائع پولیس متعلقہ نمبر کو ٹریس کر کے فیک کالر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرئے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں