لڑکے لڑکی پر تشدد کا کیس، ملزم فرحان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کالعدم

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں لڑکے اور لڑکی پر مبینہ  تشدد کیس میں ملزم فرحان کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

راولپنڈی پولیس نے ملزم فرحان کو ضمانت منسوخ ہونے پر عدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا۔

اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں ای الیون لڑکا لڑکی تشدد کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران ضمنی بیان کے بعد مقدمے کے 4 گواہان عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ کے مطابق ملزم اور تفتیشی افسر نے مل کر تمام شواہد ضائع کردیے، سی پی او راولپنڈی نے تفتیشی افسر کی جانب سے شواہد ضائع کرنے کا اعتراف بھی کرلیا۔

عدالت نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کا 15 دن تک میڈیکل ہوا نہ ہی بیان ریکارڈ کیا گیا، ہائیکورٹ کا تمام حقائق کی موجودگی میں ملزم کو ضمانت دینا حیران کن ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سی پی او پنڈی سے سوال کیا  کہ تفتیش کیلئے کسی خاتون افسرکوٹیم کاحصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ لڑکی کے مطابق تفتیشی افسر بھی اسے رات کو بلا کر ہراساں کرتا رہا۔

سی پی او راولپنڈی  نے کہا کہ ازسرِ نو تحقیقات میں لڑکی کے الزامات درست ثابت ہوئے، تفتیشی افسر شہزاد انورکی تنزلی ہوگئی، سزا بڑھانے کی سفارش بھی کردی۔

سی پی او راولپنڈی نے عدالت کو بتایا کہ ازسرنو تحقیقات کے بعد چالان جمع کرادیا ہے۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون خود لڑکے کے ساتھ ہوٹل میں گئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ہوٹل میں جانے کا کیا مطلب ہے زیادتی کر کے تصاویر بنائی جائیں؟ جواب میں وکیل ملزم نے کہا کہ لڑکی کا ملتان میں نکاح ہوچکا ہے۔

ملزم کے وکیل کے جواب میں جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا شادی شدہ ہونا زیادتی کا لائسنس دیتا ہے؟ جو پولیس پر اثرانداز ہوسکتا ہے وہ متاثرہ لڑکی پر کیسے نہیں ہوگا؟

یاد رہے کہ ملزم فرحان پر تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں لڑکی نے زیادتی کا مقدمہ درج کرا رکھا ہے۔

دورانِ سماعت ایف آئی اے کی ایکسپرٹ عاصمہ مجید، محرر تھانہ گولڑہ کاشف حیات، کمپیوٹر آپریٹر سجاد اور گواہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت میں ملزمان عثمان مرزا سمیت دیگر کو پیش کیا گیا اور عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو حاضری لگا کر واپس بھیج دیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے والی ویڈیو میں کچھ لوگوں کو ایک لڑکے اور لڑکی کے ساتھ تشدد اور جنسی بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس تفتیش کے نتیجے میں انکشاف ہوا تھا کہ واقعہ گولڑہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک فلیٹ میں ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں