ملکی صحافتی تنظیموں نے پیکا آرڈیننس کو مسترد کر دیا

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) اور ایسوسی ایشن آف الیکڑونک میڈیاایٹریٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز(ایمینڈ) نے مشترکہ بیان میں پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) آرڈیننس کو مسترد کر دیا۔

اپنے مشترکہ بیان میں صحافتی تنظیموں کا کہنا تھاکہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کو نظرانداز کیا اور تنقیدی اور تعمیری آوازوں کو دبانے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری کیا۔

صحافتی تنظیموں نے صدارتی آرڈیننس کو ڈریکونین آرڈیننس قرار دیا۔

صحافی تنظیموں کی ایکشن کمیٹی نے کہا کہ ایسی کوئی بھی ترامیم، قانون یا آرڈیننس جس میں آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش کی جائے گی اس کی ہر فورم پر سختی سے مخالفت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کے تحفظ اور آزادی رائے کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے صحافتی تنظیموں پر مبنی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اس کے خلاف جدوجہد کرے گی۔

خیال رہے کہ حکومت نے پری وینشن آف الیکٹرونک کرائم ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا جس کے تحت پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو حاصل استثنیٰ ختم کردیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت تنقید جرم بن گئی اور جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا، پولیس پکڑ کر حوالات میں بند کرے گی اور 6 ماہ میں مقدمے کا فیصلہ ہوگا۔

ٹرائل کورٹ ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائیکورٹ میں جمع کرائے گی اور جان بوجھ کر جعلی خبر پھیلانے، علم ہونے کے باوجود غلط معلومات نشر کرنے، کسی شخص کی ساکھ یا نجی زندگی کو نقصان پہنچانے کا جرم ثابت ہوگیا تو زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کی سزا ملے گی اور10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔

ترمیمی ایکٹ میں تنقید سے مبرا شخص کی تعریف بھی شامل کردی گئی ہے، حکومتی قوانین سے قائم کی گئی کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ، تنظیم، اتھارٹی شامل ہوگی جبکہ متاثرہ شخص کے ساتھ ساتھ اس کا مجاز نمائندہ یا سرپرست بھی شکایت کر سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں