بھائی وزیراعظم، بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب، اب نواز شریف کو زیادتی کا ذکر نہیں کرنا چاہیے، گورنر پنجاب

لاہور(سٹاف رپورٹر)پنجاب ہتک عزت بل 2024 پر ن لیگ کے مخالف بیان دینے کے بعد اب گورنر پنجاب سلیم خان نے ن لیگ کے قائد نواز شریف پر طنز کیا ہے۔گورنر پنجاب سلیم خان نے کہا کہ نوازشریف کے ساتھ زیادتی کا ازالہ ہوگیا، ان کا بھائی شہباز شریف وزیراعظم ہے اور بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ اب نواز شریف کو اپنے ساتھ ہونے والے زیادتی کا بار بار ذکر نہیں کرنا چاہیے۔ نوازشریف کو چاہئے مریم نواز اور شہباز شریف پر چیک اینڈ بیلنس رکھیں اور ان کے اس کے بارے میں پوچھتے رہیں۔

سلیم خان نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا کہ لیڈنگ رول ن لیگ نے ادا کرنا ہے ہم ان کا ساتھ دے سکتے ہیں پہلے بھی سب ناراض ہوتے تھے ۔ مولانا ناراض ہو کر سائیڈ میں بیٹھے ہیں ۔ مولانا صاحب خطرہ نہیں بنیں گے۔ جب ان کو منانے کی ضرورت محسوس ہو گی تو زرداری صاحب انکو منا لیں گے ۔الیکشن پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہ الیکشن پر بہت گلے شکوہ ہیں ،جب تک لوگوں کا الیکشن پر اعتماد بحال نہیں ہو گا تب تک ملک ٹھیک نہیں ہو گا ۔ کوئی لوٹ مار کا پیسہ لگا کر الیکشن کے لڑے گا تو کوئی زمینیں بیچ کر الیکشن یا دوست سے پیسے مار کر ہر کوئی لوٹ مار کے پیسوں سے الیکشن نہیں لڑتا۔ اچھے برے افراد ہر سیکٹر میں ہوتے ہیں۔ یہ ملک باربار انتخابات کا متحمل نہیں ہوسکتا آصف زرداری مفاہمت کے بادشاہ ہیں اور وہی سب کو ایک ساتھ بیٹھا سکتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب ساتھ مل کر بیٹھیں گے تو عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔

پی ٹی آئی کے حوالے کہا کہ 1997 سے بنی پی ٹی آئی اچانک سے ابھر کر سامنے آئی اور تیسری پارٹی بن گئی ، تحریک انصاف کو کون لے کر آیا سب کو معلوم ہے ۔ پاکستان بننے سے لے کر اب تک ایک یا دو انتخابات ہی فری اینڈ فئیر ہوئے ہیں ۔ عمران خان کی سیاست لڑائی جھگڑے کی سیاست ہے وہ سمجھتے ہیں کہ مولا جٹ بن جانے سے ووٹ ملتے ہیں ۔ پی پی نے ہمیشہ ملک بچایا ہے ان لوگوں نے ملک تباہ کیا ہے ۔ میں کہتا ہوں کرالیکشن قبول نہ کریں لیکن اب ملک کو چلنے دیں ۔گورنر پنجاب کا کہناتھا کہ پی پی کی تاریخ ہے کہ وہ ورکر کلاس کو ہمیشہ لے کر آتی ہے انھوں نے یہ دیکھا ہے کہ کس نے پارٹی کے لے کیا کیا ہے۔پی پی نے مجھے ٹاسک دیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر چلنا ہے ۔ میں نے فضول کی لڑائی نہیں کرنی۔ میں نے پنجا ب میں بہت سے کام کرنے ہیں اور پیپلز پارٹی کوپنجاب تک ایک بار پھر پھیلانا ہے۔ اور اسکا نتیجہ آنے والے وقتوں میں نظر آئے

اپنا تبصرہ بھیجیں