25 مارچ اور 27 مارچ کے دونوں جلسوں کو پورا تحفظ دیں گے،شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن وحشی جٹ بنے ہوئے ہیں، ہمارا کسی سے ذاتی کوئی مسئلہ نہیں، عمران خان جیتے یا ہارے فائدہ عمران خان کو ہی ہوگا، عمران خان کی مقبولیت میں تین ہفتے میں اضافہ ہوا ہے۔

شیخ رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اب 25 مارچ کو آرہی ہے، اپوزیشن کو عدم اعتماد کا حق حاصل ہے، پہلے بھی کہہ چکا ہوں پاکستان کو انٹرنیشنل تھریٹ ہیں، 20 مارچ سے 2 اپریل تک اسلام آباد میں رینجرز، ایف سی اور پولیس کو خصوصی اختیارات ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو بھی اسلام آباد میں جلسہ کرنا ہے تو ڈی سی اسلام آباد سے میٹنگ کریں، ہم 25 مارچ اور 27 مارچ کے دونوں جلسوں کو پورا تحفظ دیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ نہ ہو کہ عدم اعتماد کہیں ملکی عدم استحکام کی طرف منتقل ہوجائے، آپ چوکوں پر اذانیں دیں گے آپ کی دس سال تک کوئی نہیں سنے گا۔

انہوں نے کہا کہ سارا پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے،سیاسی بصیرت میں عمران خان کو جیتتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، 25 مارچ سے عمران خان اور مضبوط ہونگے، شیخ رشید نے ایک بار پھر کہا کہ عمران خان نے جلسے دیر سے شروع کیے انہیں یہ پہلے شروع کرنے چاہیے تھے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہے، چولی دامن کا ساتھ ہے، سیاست سے اسٹیبلشمنٹ دور ہے، بہت اچھی بات ہے، سیاست اہم پیرائے میں داخل ہونے جارہی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ نہ ہم آپ کو چھیڑیں گے نہ آپ قانون کو چھیڑیں گے، مجھے زیادہ حیرت مولانا فضل الرحمٰن پر ہو رہی ہے، آپ عالم دین ہیں، تیل میں بھگوئی ہوئی لاٹھیاں، آپ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں، جو زبان آپ استعمال کررہے ہیں اس سے انتشار پھیلا تو ذمہ دار آپ ہونگے، یہ سارے بھاگ جائیں گے آپ دھر لیے جائیں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان سب لوگوں کی پرانی تاریخ ہے کہ یہ مل کر کھیلتے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی پرانی تاریخ ہے کہ ہاتھ آسمان پر بھی رکھتے ہیں اور پاؤں زمین پر بھی۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کی تاریخ آپ کو پتہ ہے ہم دوستی اور دشمنی قبر کی دیواروں تک نبھاتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 27 مارچ کو اتوار ہے اور اس دن ووٹنگ نہیں ہو رہی، اسپیکر سے ابھی جا کر پوچھوں گا کہ وہ 28،29 یا 30 مارچ میں سے کس دن ووٹنگ کا انتخاب کرتے ہیں، 8 مارچ کوتحریک جمع کرائی گئی، رولز کے تحت 8 مارچ کا دن نہیں گنا جاتا، 8 مارچ کے بعد 14 دن اورشامل کرلیں تو ووٹنگ 28 یا29 مارچ کوبنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر ووٹنگ کےدن کا فیصلہ کریں گے، تمام لوگوں کوتحفظ دیں گے،ایسا نہیں ہوسکتا کہ پارلیمنٹ لاجزمیں 260 سے 270 خاندان رہتے ہوں اور آپ اپنی ملیشیا لے آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں