پیکا آرڈیننس ،عدالت کی ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت

اسلام آباد(سی این پی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے پیکاآرڈیننس کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور پی بی اے وغیرہ کی درخواستوں میں ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے تفصیلی رپورٹ عدالت جمع کرائیں۔گذشتہ روز سماعت کے دوران پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے پٹشنر رضوان قاضی اپنے وکیل عادل عزیز قاضی کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے، اس موقع پر پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم، نائب صدر فرحت فاطمہ، فنانس سیکرٹری جمیل مرزا،ممبر ایف ای سی طارق عثمانی، صدر آر آئی یو جے شکیل احمداور دیگر بھی موجود تھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے کہاکہ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس پر دلائل دینا چاہتا ہوں،چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت تو خود آرڈیننس پر عملدرآمد روکنے کا بیان دے چکی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ 94 ہزار کیسز ہیں، 22 ہزار کیسز کا فیصلہ ہو چکا ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ پھر سے خود کو شرمندہ نہ کریں،ایف آئی اے کی اتنی استعداد ہی نہیں ہے وہ اتنے تربیت یافتہ ہی نہیں ہیں، ایف آئی اے نے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے مخصوص کاروائیاں کیں،ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کی ساکھ کے تحفظ کیلئے نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ اس عدالت کے سامنے 22 ہزار میں سے صرف چار پانچ کیسز ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ ایک پبلک آفس ہولڈر نے 9 بجے اسلام آباد میں شکایت درج کرائی،ایف آئی اے نے مقدمہ لاہور میں درج کر کے اسی وقت اسلام آباد میں چھاپے بھی مارے،کیا یہ عدالت اس طرح کے اقدام کی اجازت دے سکتی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ آرڈیننس کو بیک وقت دونوں ایوانوں میں پیش نہیں کیا جا سکتا،پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 کو قانون میں موجود رہنا چاہیے،یہ صرف پاکستان میں نہیں دیگر ممالک میں بھی کچھ پابندیوں کے ساتھ موجود ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا حکومت تسلیم کرتی ہے کہ پبلک آفس ہولڈرز اور ادارے اس قانون میں نہیں آتے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ پبلک آفس ہولڈرز کے کاموں پر تنقید اور انکا احتساب کیا جا سکتا ہے،پبلک آفس ہولڈرز کی ذاتیات یا انکے رشتے داروں پر حملے نہیں ہونے چاہئیں،جو خرابیاں سامنے آئیں گی انکو وقت کے ساتھ ختم کیا جا سکے گا،وقت کے ساتھ ساتھ ہم سیکھ جائیں گے،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے سیکھتے سیکھتے لوگوں کی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے عدالتیں موجود ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ۔اسی لئے ایف آئی اے نے ایس او پیز جمع کرا کے عدالت سے فراڈ کیا،سوشل میڈیا تو معاشرے کا عکاس ہوتا ہے،ہمارے معاشرے میں کیوں سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور بدتہذیبی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودودنے کہاکہ سوشل میڈیا بہت خطرناک ٹُول ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ سوشل میڈیا کو کیوں قصوروار ٹھہرائیں،بندوق سیلف ڈیفنس کیلئے ہوتی ہے لیکن کسی بندر کے ہاتھ دیدیں تو وہ خطرناک ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا آئین یا قانون توڑنے کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے،سوسائٹی میں عدم برداشت کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے قانون بنائے جائیں جن کا غلط استعمال ہو سکے،اس عدالت کے سامنے جو کیسز ہیں ان میں ایف آئی اے کے اختیارات کا غلط استعمال ثابت ہو چکا ہے،ان کیسز میں اختیارات کا غلط استعمال کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں،ایف آئی اے اختیارات کو صحافیوں کے خلاف غلط استعمال کیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے کہاکہ ایف آئی اے کے ان اقدامات کی وجہ سے قانون کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے،چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت میں ایس او پیز دے کر پبلک آفس ہولڈرز کی شکایت پر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 میں ریپوٹیشن کے علاوہ دیگر بھی چیزیں ہیں،اگر کسی کی فیملی کی تصویریں اجازت کے بغیر شیئر کر دی جائیں تو وہ سنجیدہ معاملہ ہے،سوشل میڈیا میں کسی کو بہکایا اور دھمکایا جائے تو وہ بھی اسی میں آتا ہے، عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہاکہ اس کے لئے الگ سے قانون موجود ہے،چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تمام کیسز بھی اسی سیکشن کے تحت آتے ہیں،اس عدالت کے سامنے جتنے کیسز ہیں وہ صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیوں ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت کے سامنے صرف پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز ہونگے، ان کے علاوہ مزید بھی ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ تو پھر پبلک آفس ہولڈرز کے کیسز کو کیوں دیگر پر فوقیت دی گئی،بہکانے اور دھمکانے کی الگ سے سیکشن کیوں نہیں بنا دی گئی،ان کیسز میں تو ایف آئی اے پی ٹی اے سے بھی مدد لے سکتا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ پارلیمنٹ کو یہ مناسب لگا ہو گا اس لئے یہ قانون سازی کی گئی،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کون کون سے کیس میں ایف آئی اے کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے، عثمان وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہاکہ صرف ابصار عالم کیس میں ایف آئی اے نے رپورٹ جمع کرائی ہے،اس میں ایف آئی اے نے انکوائری بند کر دی ہے لیکن کیس ختم نہیں کیا،چیف جسٹس نے کہاکہ دیگر کیسز میں ایف آئی اے نے جواب جمع کیوں نہیں کرایا،ایف آئی اے کل تمام کیسز میں جواب جمع کرائے،عدالت نے یہ ہدایت بھی کی کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے تمام کیسز کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں اورسماعت آج تک ملتوی کر دی۔واضع رہے کہ پی ایف یوجے کے علاوہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز،کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز، سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار مقصود بٹر، فرحت اللہ بابر،سینئر صحافی محمد مالک، اظہر عباس، علی کاظم وحید اور شکیل مسعود سمیت دیگر نے بھی پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کر رکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں