تعلقات سے انکار۔خفیہ ایجنسی کا آفیسر دروازے توڑ کر لیڈی ڈاکٹر کے گھر گھس گیا۔ عصمت دری کی کوشش

راولپنڈی(سی این پی) تعلقات سے انکار۔ مبینہ خفیہ ایجنسی کا آفیسر دروازے توڑ کر لیڈی ڈاکٹر کے گھر گھس گیا۔ عصمت دری کی کوشش۔ بحریہ سکیورٹی کیے آنے پر فرار۔ پولیس چوکی انچارج نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے خاتون ڈاکٹر سے انتہائی بے ہودہ سوالات شروع کردئیے۔”نامعلوم“ نمبروں سے سنگین دھمکیاں۔ سٹی پولیس آفیسر نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایس پی کو تھانیدار کے خلاف انکوائری اور کارروائی کی ہدایت کردی۔ واقعات کے مطابق واحدہ یونس نے بتایا کہ وہ گلی نمبر10، سیکٹرAبحریہ ٹاؤن رہائشی اور سکن کی ڈاکٹر ہے۔ملزم شمس العارفین ایک مریض کی حیثیت سے کچھ عرصہ پہلے ملا اور خود کو ایک حساس ادارے کا آفیسر بتایا۔ کچھ عرصہ میں دونوں کے درمیان اچھے تعلقات بن گئے اور کاروبار میں شراکت بھی کرلی لیکن کچھ دنوں سے ملزم اس کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے پر زور دینے لگا۔ جس پر اس کے ساتھ کاروباری اور ذاتی تعلق بھی ختم کردیا جس پر ملزم نے اسے دھمکیاں دینی شروع کردیں اور پھر پندرہ اپریل کو رات کے 8:45 بجے اس کے گھر کا مرکزی دروازہ توڑ کر اس کے گھر میں گھس گیا اور اس کی ماں اور بہن کے سامنے اس کے ساتھ دست درازی شروع کردی۔ بحریہ سکیورٹی کو فون پر اطلاع دی جس پر سکیورٹی والے آئے تو ملزم اپنی گاڑی8080Rivo میں فرار ہوگیا۔ اس واقعہ کی فوٹیج بھی گھر کے باہر لگے کیمروں میں محفوظ ہے۔ تھانہ روات کی پولیس چوکی بحریہ ٹاؤن کے تھانیدار نے ملزم کو گرفتار کرنے یا مقدمہ درج کرنے کے بجائے خاتون ڈاکٹرکو ہراساں کرنا شروع کردیا اور اس سے انتہائی نازیبا سوالات کرنے لگا۔ اس نے لیڈی پولیس بھی بلانا گوارا نہ کیا جس پر تنگ آکر لیڈی ڈاکٹر نے 19 اپریل کو سٹی پولیس آفیسر عمر سعید کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ سٹی پولیس آفیسر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمہ کی تفتیش تھانہ ویمن کے سپرد کرتے ہوئے متعلقہ ایس پی کو چوکی انچارج کے خلاف انکوائری اور سخت محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ جب وہ پولیس چوکی میں تھی تو اس کے عزیز جو اس کے ساتھ تھانے گئے تھے کو ”نامعلوم“(Unknown)نمبر سے کال کر کے مقدمہ سے دور رہنے بصورت دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ ملزم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ مالی لحاظ سے بہت تگڑا ہے اور اس کا ماضی کا ریکارڈ بھی اس طر ح کے واقعات پر مبنی ہے لیکن بااثر ہونے کی وجہ سے وہ قانون کی گرفت سے بچا رہا۔ دوسری طرف تفتیشی سب انسپکٹر لقمان پاشا نے رابطہ کرنے پر اُلٹا کہا کہ ایک نہیں کئی مقدمے درخواست گزار کے خلاف دوں گا۔ اس نے شادی کا جھانسہ دیکر شمس سے لاکھوں روپے کھائے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ خود اس کے خلاف ایف آئی اے میں بھی مقدمہ کرائے گا جب اس سے پوچھا کہ تم نے مقدمہ کی تفتیش کسی خاتون پولیس آفیسر کو کیوں نہیں دی تو اس نے کہا میری مرضی۔ جب اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے خلاف سی پی او کوئی انکوائری کر رہا ہے تو ہنستے ہوئے کہا کہ انکوائریاں ہوتی رہتی ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا۔ یہ سب انسپکٹر لہجے سے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی نشہ کیا ہوا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگرپولیس نے دباؤ میں آکر ملزم کو گرفتار نہ کیا تووہ ہائیکورٹ سے رجوع کرے گی تاہم ایس ایچ او ویمن تھانہ نے درخواست گزار کا بیان گزشتہ روز ریکارڈ کرلیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں