پاک ایران کشیدگی کے خطے پر برے اثرات

تحریر :عرفان الحق
چار دہائیوں سے نشیب وفراز کا شکار پاکستان اور ایران کے تعلقات میںآنے والی بہتری کو ایرانی فوج کی جانب پاکستانی حدود میں حملے کے اشتعال انگیز اقدام نے بے پناہ نقصان پہنچایا ہے ایرانی فوج کا اقدام غیر پیشہ ورانہ اور ہمسایہ ملک کی خود مختاری کے لئے دیرپا خطرے کے مترادف ہے پاکستان نے سرحدی خلاف ورزی اور بلوچستان کے علاقہ پنجگور پر میزائل حملے میں دو بچیوں کے جاں بحق ہونے اور چار افراد کے زخمی ہونے کے واقعہ کے بعد پاکستان نے ایرانی ناظم الامور کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا بعد ازاں اسلام آباد نے تہران میں تعینات اپنے سفیر کو نہ صرف واپس بلا لیا بلکہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر (جو فی الوقت تہران میں ہی ہیں)کا واپس استقبال کرنے سے بھی انکار کردیا یہی وہ وقت تھا جب ایران نے اپنی خاموشی ختم کی اور ذمہ داری قبول کی ایرانی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ حملہ پاکستان کے اندر کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ حملے کا ہدف دہشت گرد گروپ جیش العدل تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ تنظیم اسرائیل سے تعلق رکھتی ہے القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور تنظیم جند اللہ اسی جیش العدل کی سربراہ جماعت ہے پاکستان کی طرف سے بدھ کے روز سفارتی تعلقات میں معطلی کی جو صورت سامنے آئی، وہ احتجاج کی ایسی صورت ہے جو ایک امن پسند مہذب ملک اپنے ردعمل کے اظہار کے لئے اختیار کرسکتا ہے اسلام آباد تہران تعلقات کے حوالے سے یہ ردعمل اس اعتبار سے انتہائی غیر معمولی ہے کہ ان دونوں ملکوں کے تعلقات کی پون صدی میں یہ صورتحال پہلی بار پیش آئی ہے مبصرین کے خیال میں ایران میں پاسداران انقلاب کے غلبے کی وجہ سے یہ کیفیت سامنے آئی ہے کہ دوسرے ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں کے احترام پر توجہ نہیں دی گئی جو ملک کسی بھی عنوان سے دوسرے ممالک کی سرحدوں کا تقدس نہیں محسوس کرتا وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کی اپنی سرحدوں کا بھی کوئی تقدس نہیں پاکستان اور ایران کے درمیان افواج اور حکومتی سطح پر رابطے کے متعدد چینلز کی موجودگی کا فائدہ اٹھانے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے بجائے ایران کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری پر حملے کا جواب 48 گھنٹے کے اندر آپریشن مرگ بر سرمچار کی صورت میں تہران کو دے دیا گیا ہے دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن مرگ بر سرمچار کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے جوابی کارروائی میں کسی شہری یا ایرانی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا ایران اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کے ممالک میں حالیہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی کے جواز میں کی گئی ہیں ایران کی سرزمین پر پاکستانی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کو ایرانی حکام نے بھی غیر ملکی قرار دیا ہے ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے صوبہ سیستان وبلوچستان کے نائب صوبائی گورنر علی رضا مر ہماتی کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے ایک سرحدی گائوں پر میزائلوں سے حملہ کیا جس میں تین خواتین اور چار بچے مارے گئے جو تمام غیر ایرانی شہری تھے جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث کئی گروہوں نے مختلف سوشل میڈیا چینلز پر اس حملے میں اپنے متعدد ساتھیوں کی ہلاکت کو تسلیم کرلیا ہے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے افواج پاکستان کو خوب سراہا جبکہ آپریشن مرگ بر اور اس سے منسلک ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گئے سوشل میڈیا صارفین نے آپریشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران، عراق جنگ کے بعد ایران پر حملہ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے، ریاست نے عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، ایران نے بچے شہید کئے جبکہ پاکستان نے دہشت گردوں کو ہلاک کیا، ایک میزائل کے جواب میں پاکستان نے چار میزائل پھینکے، کئی لوگوں کا کہنا تپا کہ میزائل حملے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ضروری اور یہ پاکستان اور ایران دونوں کے مفاد میں تھے صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں پاک فضائیہ کی قابلیت اور پروفیشنل ہونے پر فخر ہے ایران نے مبینہ دہشت گردوں سے نمٹنے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ کسی ذمہ دار ریاست کے طرز عمل کی عکاسی نہیں کرتا دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو بھی ایران سے کم شکایتیں نہیں مگر پاکستانی فورسز نے ہمیشہ پروفیشنل فورسز کا رویہ اختیار کیا اور اپنی سرحد سے پار کوئی ایسی کارروائی نہیں کی جس سے اشتعال پیدا ہوتا ہو تاہم ایرانی فوج کا غیر ذمہ درانہ فعل دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد کے لئے غیر معمولی تنزلی کا سبب بنا ہے اور اس واقعہ کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو جو شدید نقصان پہنچا ہے اس کاازالہ شاید ممکن نہ ہوسکے ایران نے تین ملکوں کے اندر حملوں کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اب کسی سے بھی لڑنے کو تیار ہے لیکن تہران نے تین اسلامی ملکوں میں اشتعال انگیزی سے قبل یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس نے اپنے اس اقدام کے ذریعے دراصل اسرائیل اور امریکہ کا راستہ ہموار کیا ہے دونوں ممالک بڑے عرصے سے ایران پر حملوں کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں ‘ مشرق وسطی کے چند ممالک بھی ایران کی فوجی قوت سے خوف زدہ ہیں ایسے حالات میں جب روس، یوکرین جنگ کے بعد غزہ میں جاری اسرائیل کی بمباری خطے کو خطرناک جنگ کی جانب لے جارہی ہے اور مشرق وسطی کے ممالک اس جنگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں،ایران نے تین مسلمان ملکوں کے اندر میزائل حملے کرکے اس خونی کشمکش پر پٹرول ڈالنے کا کام کیا ہے ایرانی وزارت خارجہ کا پاکستان کے فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے یہ کہنا کہ غیر ایرانی علاقہ مکینوں پر پاکستانی فضائی کارروائی ناقابل قبول ہے، ایرانی شہریوں کی سلامتی اور علاقائی اور علاقائی المیت ریڈ لائن ہے تو پاکستان بھی اپنے شہریوں کی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرسکتا خطے میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ زخم پاکستان نے کھائے ہیں مستقبل میں مغربی ہمسائیوں ایران اور افغانستان کے ساتھ ہمارے نارمل تعلقات کا دار ومدار اس پر ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر کا صفایا یقینی بنایا جائے…

اپنا تبصرہ بھیجیں